![]() |
| فوٹو:سکرین شاٹ |
چین میں نئی مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی "اوپن کلاو" تیزی سے مقبول ہو رہی ہے، جس کے باعث جہاں ایک طرف ٹیکنالوجی کا نیا رجحان پیدا ہو گیا ہے وہیں دوسری جانب سائبر سیکیورٹی اور روزگار سے متعلق خدشات بھی بڑھنے لگے ہیں۔
اوپن کلاو نومبر میں متعارف کروایا گیا تھا اور مختصر عرصے میں ہی چین کے مختلف شہروں اور صنعتوں میں اس کا استعمال تیزی سے بڑھ گیا۔ صارفین اس ٹول کو ایپس چلانے، مختلف کام خودکار بنانے، ڈیوائسز کنٹرول کرنے اور انتظامی امور سنبھالنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جس سے کم انسانی مداخلت میں زیادہ کام انجام دینا ممکن ہو رہا ہے۔
ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق چین کے بڑے شہروں میں منعقد ہونے والی ٹیک میٹ اپس اور تقریبات میں "لوبسٹر" تھیم والی اشیاء بھی مقبول ہو رہی ہیں، جنہیں اوپن کلاو کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ اس رجحان کو غیر رسمی طور پر "لوبسٹر فارمنگ" کا نام بھی دیا جا رہا ہے۔
اوپن کلاو کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باعث آن لائن مارکیٹ میں بھی اس کی انسٹالیشن اور سیٹ اپ سروسز فراہم کی جا رہی ہیں، جہاں کئی وینڈرز فیس کے عوض صارفین کو یہ سسٹم نصب کر کے دے رہے ہیں۔ ان تقریبات میں بڑی تعداد میں لوگ شرکت کر رہے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی کا رجحان تیزی سے پھیل رہا ہے۔
چین کی بڑی کمپنیوں اور سرکاری اداروں نے بھی اس ٹیکنالوجی کو اپنانے کی حوصلہ افزائی شروع کر دی ہے۔ کئی ادارے اپنے ملازمین کو آٹومیشن ٹولز استعمال کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں تاکہ کام کی رفتار اور معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔ چین کے شہر ووکسی میں مصنوعی ذہانت سے متعلق منصوبوں کے لیے مالی معاونت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق چین میں اوپن کلاو کا استعمال دنیا میں سب سے زیادہ ہو چکا ہے، جہاں صارفین اس ٹیکنالوجی کو امریکی صارفین کے مقابلے میں کہیں زیادہ سطح پر استعمال کر رہے ہیں۔
تاہم، اوپن کلاو کی تیزی سے ترقی کے ساتھ سیکیورٹی خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی سسٹمز تک براہ راست رسائی فراہم کرتی ہے، جس سے حساس معلومات کے افشا ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ریموٹ سسٹمز کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت بھی سائبر سیکیورٹی کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ایسے سسٹمز جو اداروں کے اندرونی نیٹ ورکس تک رسائی حاصل کرتے ہیں، وہ خفیہ ڈیٹا کے لیک ہونے اور سائبر حملوں کے امکانات کو بڑھا سکتے ہیں۔ اوپن کلاو کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باعث دو بڑے سیکیورٹی چیلنجز سامنے آئے ہیں جن پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب، آٹومیشن کے بڑھتے استعمال سے ملازمتوں کے متاثر ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت کام کی رفتار بڑھانے میں مدد دے رہی ہے، لیکن اس سے بعض شعبوں میں انسانی افرادی قوت کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق حکومتوں اور کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے استعمال کے ساتھ سیکیورٹی پالیسیز کو مضبوط بنائیں اور ملازمین کو نئی مہارتیں سکھانے کے اقدامات کریں تاکہ مستقبل میں ممکنہ خطرات سے نمٹا جا سکے۔

تحریر کے بارے میں اپنی رائے بھیجیں