اسلام آباد: حکومت مجوزہ آٹو پالیسی 2026-31 کے حوالے سے پیدا ہونے والے اختلافات اور آئی ایم ایف کے تحفظات کے باعث نئی حکمت عملی مرتب کرنے میں مصروف ہے۔ وزارت تجارت کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ گاڑیوں پر ٹیرف کا تعین قومی ٹیرف پالیسی (این ٹی پی) میں طے شدہ تجارتی آزادی کے اصولوں کے مطابق کیا جا رہا ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں وزارت تجارت کے سیکریٹری جواد پال نے بتایا کہ اگر قومی ٹیرف پالیسی پر مکمل طور پر عمل کیا گیا تو کاروں، جیپوں اور ان کے پرزہ جات پر کسٹمز ڈیوٹی میں 25 سے 50 فیصد تک کمی کی جائے گی، جس سے گاڑیاں نسبتاً سستی ہو جائیں گی، تاہم مقامی اسمبلرز کو سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
وزارت تجارت کا مؤقف ہے کہ مالی سال 2026-27 کے لیے زیادہ سے زیادہ کسٹمز ڈیوٹی کو نصف کرتے ہوئے 50 فیصد تک محدود کیا جائے، اضافی کسٹمز ڈیوٹی میں ہر درجے پر 2 فیصد کمی کی جائے اور ریگولیٹری ڈیوٹی کو 20 فیصد تک لایا جائے۔ اس طرح مجموعی زیادہ سے زیادہ ٹیرف 156 فیصد سے کم ہو کر 74 فیصد رہ جائے گا۔ ذرائع کے مطابق یہی 82 فیصد کا فرق نئی آٹو پالیسی کی منظوری میں تاخیر کی بڑی وجہ بنا ہوا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے آٹو پالیسی کی بعض تجاویز کی حمایت نہیں کی، جبکہ مختلف وزارتوں کے درمیان بھی اختلافات موجود ہیں۔ حکومت نے آئی ایم ایف کو تجویز دی تھی کہ ہائبرڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس موجودہ شرح کا 50 فیصد رکھا جائے جبکہ نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں پر صرف ایک فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا جائے، تاہم ان تجاویز پر اتفاق نہیں ہو سکا۔
بین الوزارتی اختلافات اور آئی ایم ایف کے اعتراضات کے باعث حکومت کو موجودہ آٹو پالیسی کے 30 جون کو ختم ہونے سے قبل نئی پالیسی نافذ کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق 24 جون سے قبل قومی اسمبلی سے نئی ٹیرف تجاویز کی منظوری حاصل کرنا تقریباً ناممکن دکھائی دے رہا ہے۔
حکومت دو اہم آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ پہلا یہ کہ قومی ٹیرف پالیسی کے مطابق آٹو سیکٹر پر زیادہ سے زیادہ ٹیرف 74 فیصد تک محدود کر دیا جائے، جبکہ دوسرا آپشن یہ ہے کہ ٹیرف 74 فیصد تک لانے کے بعد تحفظ برقرار رکھنے کے لیے 82 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کر دی جائے، تاہم ذرائع کے مطابق یہ اقدام آٹو پالیسی کے بنیادی اصولوں سے انحراف تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ مالی سال 2026-27 کے دوران 7,590 ٹیرف لائنوں پر کسٹمز، اضافی کسٹمز اور ریگولیٹری ڈیوٹی میں مرحلہ وار کمی کی جائے گی اور موجودہ 156 فیصد زیادہ سے زیادہ ٹیرف کو کم کرکے 74 فیصد تک لایا جائے گا۔
نئی ٹیرف پالیسی کے تحت آٹو پارٹس پر کسٹمز ڈیوٹی 35 فیصد سے کم ہو کر 25 فیصد رہ جائے گی۔ 800 سی سی تک کی گاڑیوں پر ڈیوٹی 50 فیصد سے کم ہو کر 30 فیصد، ایک ہزار سی سی تک کی گاڑیوں پر 55 فیصد سے 35 فیصد، 1500 سی سی تک کی گاڑیوں پر 60 فیصد سے 40 فیصد، 1800 سی سی تک کی گاڑیوں پر 75 فیصد سے 45 فیصد جبکہ 1800 سی سی سے زائد گاڑیوں پر ڈیوٹی 100 فیصد سے کم ہو کر 50 فیصد رہ جائے گی۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم آفس مہنگی اور دو ہزار سی سی سے زائد گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا خواہاں نہیں، اس لیے ان گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
وزارت صنعت اور وزارت تجارت کے درمیان ایک بڑا اختلاف مقامی طور پر اسمبل ہونے والی گاڑیوں پر درآمدی ڈیوٹی کے حوالے سے ہے۔ وزارت صنعت زیادہ شرح برقرار رکھنے کی حامی ہے جبکہ وزارت تجارت قومی ٹیرف پالیسی کے مطابق 2030 تک زیادہ سے زیادہ کسٹمز ڈیوٹی 15 فیصد تک لانے کی خواہاں ہے۔ وزارت صنعت کا مؤقف ہے کہ آئی ایم ایف نے 15 فیصد کی حد مقرر نہیں کی بلکہ صرف اوسط ٹیرف کو 6 فیصد سے کم رکھنے کا کہا ہے، جو 50 فیصد تک ڈیوٹی برقرار رکھتے ہوئے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
سیکریٹری تجارت کے مطابق ٹیرف اصلاحات کے دوسرے سال کے دوران ڈیوٹی میں کمی سے قومی خزانے پر تقریباً 143.4 ارب روپے کا اثر پڑے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ نے مقامی، درآمدی اور استعمال شدہ گاڑیوں پر یکساں ٹیرف نافذ کرنے کی سفارش بھی کی ہے تاکہ تمام شعبوں کو مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی شرائط قومی ٹیرف پالیسی کے اہداف کے مقابلے میں نسبتاً نرم ہیں۔ آئی ایم ایف نے ریگولیٹری ڈیوٹی 80 فیصد تک برقرار رکھنے کی اجازت دی ہے، تاہم حکومت نے پانچ سال میں اسے مکمل طور پر ختم کرنے اور 2030 تک زیادہ سے زیادہ کسٹمز ڈیوٹی کو 15 فیصد تک لانے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔
.jpg)
تحریر کے بارے میں اپنی رائے بھیجیں