لندن: نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دل کی بہتر صحت کے لیے صرف زیادہ مقدار میں پھل اور سبزیاں کھانا کافی نہیں بلکہ ان میں درست اقسام کا انتخاب بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق بعض پھلوں اور سبزیوں میں پائے جانے والے قدرتی مرکبات، جنہیں فلاوانولز (Flavanols) کہا جاتا ہے، دل کی بیماریوں کے خطرات کو نمایاں طور پر کم کر سکتے ہیں۔
یہ تحقیق یونیورسٹی آف ریڈنگ، ہارورڈ میڈیکل اسکول، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ڈیوس اور مارس انکارپوریشن کے سائنس دانوں نے مشترکہ طور پر انجام دی، جس کے نتائج سائنسی جریدے Food & Function میں شائع ہوئے۔ تحقیق میں برطانیہ اور امریکا کے 30 ہزار سے زائد افراد کے غذائی معمولات اور حیاتیاتی اشاریوں (بائیومارکرز) کا جائزہ لیا گیا۔
محققین نے پایا کہ اگرچہ بہت سے افراد روزانہ تجویز کردہ مقدار کے مطابق پھل اور سبزیاں استعمال کرتے ہیں، اس کے باوجود ان میں سے اکثریت فلاوانولز کی مطلوبہ مقدار حاصل نہیں کر پاتی۔ تحقیق کے مطابق پانچ میں سے صرف ایک فرد ہی اتنی مقدار میں فلاوانولز حاصل کرتا ہے جو دل کی بیماریوں سے تحفظ کے لیے مؤثر سمجھی جاتی ہے۔
تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر جاویئر اوٹاویانی کے مطابق فلاوانولز دل کی بیماریوں سے موت کے خطرات کو نمایاں طور پر کم کر سکتے ہیں، تاہم اس کے لیے ان مرکبات کی مناسب مقدار کا استعمال ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ زیادہ پھل اور سبزیاں کھانے سے تمام غذائی ضروریات پوری ہو جاتی ہیں، لیکن حقیقت میں مخصوص غذاؤں کا انتخاب زیادہ اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ روزمرہ خوراک میں ایک سیب، چند بلیک بیریز یا ایک کپ گرین ٹی شامل کرنا فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل ہونے والی COSMOS نامی تحقیق، جو فلاوانولز پر اب تک کی سب سے بڑی کلینیکل آزمائش تھی، میں یہ ثابت ہوا تھا کہ روزانہ تقریباً 500 ملی گرام فلاوانولز کا استعمال دل کی بیماریوں سے ہونے والی اموات کے خطرے میں نمایاں کمی لاتا ہے۔ تاہم نئی تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ زیادہ تر افراد اس مقدار تک نہیں پہنچ پاتے۔
ماہرین کے مطابق مختلف غذاؤں میں فلاوانولز کی مقدار مختلف ہوتی ہے۔ تقریباً 500 گرام آلو بخارے میں 450 ملی گرام، 250 گرام کرین بیریز میں 300 ملی گرام، 200 گرام بلیک بیریز میں 250 ملی گرام، ایک کپ گرین ٹی میں 200 ملی گرام اور ایک درمیانے سائز کے سیب میں تقریباً 110 ملی گرام فلاوانولز موجود ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اسٹرابیری، بلیو بیریز، چیری اور مختلف اقسام کی پھلیاں بھی ان مفید مرکبات سے بھرپور ہوتی ہیں۔
یونیورسٹی آف ریڈنگ کے پروفیسر گنٹر کوہنلے کا کہنا ہے کہ روزانہ پانچ مرتبہ پھل اور سبزیاں کھانے کی ہدایت درست ہے، لیکن اب اس بات پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ یہ پانچ غذائیں کون سی ہوں۔ ان کے مطابق مختلف پھل اور سبزیاں صرف وٹامنز اور معدنیات ہی نہیں بلکہ دیگر مفید قدرتی مرکبات بھی فراہم کرتی ہیں، اور مستقبل میں غذائی رہنما اصولوں کو مزید مخصوص اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق اس بات کی جانب ایک اہم قدم ہے کہ صحت مند غذا کے لیے صرف مقدار نہیں بلکہ غذاؤں کے انتخاب پر بھی خصوصی توجہ دی جائے، تاکہ دل کی بیماریوں کے خطرات کو مزید کم کیا جا سکے۔

تحریر کے بارے میں اپنی رائے بھیجیں