راولپنڈی: پنجاب حکومت نے یکم جولائی سے صوبے بھر میں کرائے پر دی گئی غیر رہائشی جائیدادوں اور غیر منقولہ املاک پر 16 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس پر شہریوں اور پراپرٹی ڈیلرز نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے ٹیکس دہندگان پر اضافی بوجھ قرار دیا ہے۔
نئے اقدامات کے تحت راولپنڈی سمیت پنجاب بھر میں کرائے پر دی گئی تمام غیر رہائشی عمارتیں اور دیگر غیر منقولہ جائیدادیں 16 فیصد جی ایس ٹی کے دائرہ کار میں آئیں گی۔ اس کے علاوہ یکم جنوری 2025 سے قبل رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کے لیے پراپرٹی ٹیکس نظام کے تحت سرمایہ جاتی مالیت (کیپیٹل ویلیو) کے تعین پر 20 فیصد کی حد مقرر کی گئی ہے۔
حکومت نے سیلف اسیسمنٹ اسکیم کے تحت پراپرٹی ٹیکس ادا کرنے والوں کے لیے 5 فیصد رعایت کا بھی اعلان کیا ہے، جبکہ پنجاب کے پراپرٹی ٹیکس نظام میں متعدد اہم تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں، جن میں ای پے پنجاب (E-Pay Punjab) پلیٹ فارم کے ذریعے ٹیکس ادائیگی کا نظام بھی شامل ہے۔
حکام کے مطابق اگر مقررہ وقت پر ٹیکس ادا نہ کیا گیا تو اصل واجب الادا رقم کے ساتھ ہر تین ماہ بعد اضافی سرچارج بھی عائد کیا جائے گا۔ یہ سرچارج ہر سال 31 اکتوبر، 31 جنوری، 30 اپریل اور 31 جولائی کو مرحلہ وار بڑھایا جائے گا۔
نئے ٹیکس کا اطلاق ان چھوٹے گھروں پر بھی ہوگا جو مالکان نے کرائے پر دے رکھے ہیں، جس پر عوامی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
پراپرٹی ڈیلرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں اور شہریوں نے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے اسے غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے سیکریٹری نوید علی کا کہنا ہے کہ ایکسائز محکمہ پہلے ہی کمرشل اور رہائشی کرائے کی جائیدادوں پر مختلف ٹیکس وصول کر رہا ہے، ایسے میں مزید 16 فیصد جی ایس ٹی عائد کرنا ناقابل قبول ہے۔
دوسری جانب حکومتی آمدن میں اضافے کے لیے کمرشل ٹرانسپورٹ گاڑیوں، جن میں وینز اور ٹرک شامل ہیں، کے ٹوکن ٹیکس میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ ایک ہزار سی سی یا اس سے زیادہ انجن والی گاڑیوں پر بھی نئے ٹیکس نافذ کیے گئے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات کا مقصد محصولات میں اضافہ اور ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے، تاہم عوامی اور کاروباری حلقوں کی جانب سے ان فیصلوں پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

تحریر کے بارے میں اپنی رائے بھیجیں