آج ہفتہ، 11 اپریل 2026 کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بین الاقوامی سفارتی سرگرمیوں کے باعث غیر معمولی صورتحال ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے تاریخی "اسلام آباد مذاکرات" کے لیے اہم وفود کی آمد کے پیشِ نظر شہر میں مقامی تعطیل اور سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
عالمی مذاکرات کا آغاز: اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان "میک اور بریک" امن مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہو رہا ہے۔ امریکی وفد کی قیادت نائب صدرجے ڈی وینس کر رہے ہیں، جبکہ ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے اسپیکر
محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں۔ یہ مذاکرات وفاقی دارالحکومت کے سرینا ہوٹل میں منعقد ہو رہے ہیں۔
تیسری مقامی تعطیل: ضلعی انتظامیہ نے ان اہم مذاکرات اور سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر آج 11 اپریل کو بھی اسلام آباد اور راولپنڈی میں مقامی تعطیل کا اعلان کر رکھا ہے۔ تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے اور دفاتر بند ہیں، تاہم ہسپتال، پولیس اور ضلعی انتظامیہ جیسی ضروری خدمات فعال ہیں۔
سیکیورٹی کے سخت انتظامات: شہر کو ایک قلعے میں تبدیل کر دیا گیا ہے جہاں 10,000 سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات ہیں۔ ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے اور مارگلہ ہلز پر بھی فوجی دستے تعینات کیے گئے ہیں۔
ٹریفک اور متبادل راستے: اسلام آباد ٹریفک پولیس نے 11 اور 12 اپریل کے لیے جامع ڈائیورشن پلان جاری کیا ہے:بند راستے: اسلام آباد ایکسپریس وے (زیرو پوائنٹ سے کورال چوک تک) اور ریڈ زون سے منسلک تمام سڑکیں بند ہیں۔
متبادل راستے: پشاور سے راولپنڈی جانے والے شہری ٹیکسلا موٹروے استعمال کریں، جبکہ لاہور سے آنے والے راوت اور چکری روڈ کا انتخاب کریں۔ شہر کے اندرونی سفر کے لیے نائنتھ ایونیو (9th Avenue) اور مارگلہ روڈ کھلے ہیں۔
میڈیا سہولیات: صحافیوں کی سہولت کے لیے جناح کنونشن سینٹر میں میڈیا سینٹر قائم کیا گیا ہے اور سنٹورس مال سے کنونشن سینٹر تک مفت شٹل سروس بھی شروع کی گئی ہے۔
شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے اسلام آباد پولیس کے آفیشل ذرائع سے رابطے میں رہیں۔

تحریر کے بارے میں اپنی رائے بھیجیں