اسلام آباد / تہران: Iran کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ حالیہ امریکا-ایران مذاکرات میں بعض معاملات پر پیش رفت ہوئی، تاہم چند اہم اختلافی نکات کے باعث کوئی حتمی معاہدہ طے نہ ہو سکا۔
ترجمان کے مطابق یہ مذاکرات Islamabad میں منعقد ہوئے اور گزشتہ ایک سال کے دوران ہونے والے مذاکراتی ادوار میں سب سے طویل دور تھا، جو تقریباً 24 سے 25 گھنٹے جاری رہا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں فریق کئی امور پر اتفاق کے قریب پہنچ گئے تھے، لیکن دو سے تین بنیادی اور اہم معاملات پر اختلافات برقرار رہے، جن کی وجہ سے ڈیل ممکن نہ ہو سکی۔ ان کے مطابق دیگر معاملات پر بھی فریقین کے درمیان نقطہ نظر میں واضح فرق موجود تھا۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ سفارت کاری ایک مسلسل عمل ہے اور اسے کسی ایک نشست کے نتیجے سے ختم نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی کو یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے تھی کہ اتنے پیچیدہ معاملات پر ایک ہی دور میں مکمل معاہدہ ہو جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران خطے میں پاکستان اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ رابطے میں رہے گا۔ انہوں نے پاکستان کی حکومت، عوام اور وزیر اعظم شہباز شریف کا شکریہ بھی ادا کیا۔
ذرائع کے مطابق اگرچہ مذاکرات ختم ہو گئے ہیں، لیکن دونوں ممالک نے سفارتی رابطوں کا سلسلہ جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے، جس سے مستقبل میں دوبارہ بات چیت کے امکانات برقرار ہیں۔

تحریر کے بارے میں اپنی رائے بھیجیں