ایران کے سرکاری اور نجی میڈیا اداروں نے امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات سے متعلق دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے حد سے زیادہ مطالبات مشترکہ فریم ورک اور ممکنہ معاہدے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز، جوہری حقوق اور سیکیورٹی سے متعلق کئی حساس معاملات پر دونوں فریقین کے درمیان اختلافات سامنے آئے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکا نے ایسے مطالبات پیش کیے جو ایران کے مطابق جنگ کے دوران بھی حاصل نہیں کیے جا سکے تھے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق امریکا نے ایران کے جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ اور آبنائے ہرمز سے متعلق سخت شرائط پیش کیں، جنہیں ایرانی وفد نے ناقابل قبول قرار دیا۔ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ مطالبات مذاکرات کے ماحول کو متاثر کرنے کا باعث بنے اور فریقین کسی مشترکہ فریم ورک پر متفق نہ ہو سکے۔
رپورٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ معاہدہ نہ ہونے کے باوجود آبنائے ہرمز کی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور ایران اپنی موجودہ پالیسی برقرار رکھے گا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایران خطے میں استحکام اور توانائی کی سپلائی کو متاثر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مذاکرات میں عالمی برادری کی گہری دلچسپی تھی، تاہم اہم اختلافات کے باعث دونوں فریقین کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے۔
.jpg)
تحریر کے بارے میں اپنی رائے بھیجیں