صبح کی ایک کپ کافی نہ صرف دن کا آغاز بہتر بناتی ہے بلکہ دماغی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ حال ہی میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق روزانہ دو سے تین کپ کیفین والی کافی پینے والے افراد میں ڈیمنشیا (یادداشت کمزور ہونے کی بیماری) کا خطرہ کم ہو سکتا ہے۔
یہ تحقیق طبی جریدے JAMA میں شائع ہوئی جس میں تقریباً ایک لاکھ 32 ہزار افراد کو 43 سال تک فالو کیا گیا۔ تحقیق کے نتائج کے مطابق جو افراد باقاعدگی سے کیفین والی کافی پیتے تھے ان میں ڈیمنشیا کا خطرہ 18 فیصد کم پایا گیا۔ ایسے افراد میں یادداشت کی کمزوری کی علامات بھی کم تھیں اور انہوں نے ذہنی صلاحیت کے ٹیسٹ میں بھی بہتر کارکردگی دکھائی۔
اسی طرح وہ افراد جو روزانہ ایک سے دو کپ کیفین والی چائے پیتے تھے، ان میں بھی دماغی صحت کے حوالے سے مثبت نتائج سامنے آئے۔
نیویارک پریسبیٹیرین اور کولمبیا یونیورسٹی سے وابستہ نیورولوجسٹ ڈاکٹر ہیو کاہل کے مطابق یہ تحقیق انتہائی اہم ہے کیونکہ اس میں بڑی تعداد میں افراد کو طویل عرصے تک دیکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نتائج اس بات کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ روزانہ کافی یا چائے دماغی صحت کے لیے مفید ہو سکتی ہے۔
کیا روزانہ کافی پینا مفید ہے؟
ڈاکٹر ہیو کاہل کے مطابق وہ خود بھی کافی پیتے ہیں اور تحقیق کے نتائج کو دیکھتے ہوئے کافی یا چائے کو صحت مند طرز زندگی کا حصہ بنانے کی سفارش کرتے ہیں۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ زیادہ مقدار میں کیفین لینے سے نیند میں خلل، بے چینی اور ہاضمے کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق روزانہ دو سے تین کپ کافی یا ایک سے دو کپ چائے سے زیادہ مقدار لینے سے اضافی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ سائیڈ ایفیکٹس بڑھ سکتے ہیں۔
کیفین دماغ پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے؟
ماہرین کے مطابق کیفین دماغ میں ایسے پروٹینز کو متحرک کرتی ہے جو یادداشت، سیکھنے اور دماغی خلیات کی نشوونما میں مدد دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ کیفین دماغی خون کی نالیوں کو پھیلانے میں بھی مدد دیتی ہے، جس سے فالج اور ویسکیولر ڈیمنشیا کا خطرہ کم ہو سکتا ہے۔
کافی میں صرف کیفین ہی نہیں بلکہ دیگر مفید اجزاء بھی موجود ہوتے ہیں، جن میں ٹریگونیلین، ڈائی ٹرپینز اور میلانائیڈنز شامل ہیں۔ یہ اجزاء بھی یادداشت اور دماغی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔
کریم اور چینی ڈالنے سے کیا فرق پڑتا ہے؟
تحقیق کے مطابق کافی یا چائے میں کریم یا چینی شامل کرنے سے کیفین کے فوائد پر خاص اثر نہیں پڑتا۔ تاہم زیادہ چینی کا استعمال موٹاپا، ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کا باعث بن سکتا ہے، جو دماغی بیماریوں کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔
کیا انرجی ڈرنکس بھی فائدہ دیتی ہیں؟
تحقیق میں صرف کافی اور چائے کا جائزہ لیا گیا۔ انرجی ڈرنکس یا سافٹ ڈرنکس کے بارے میں کوئی نتیجہ نہیں نکالا گیا کیونکہ ان میں موجود دیگر اجزاء کیفین کے فوائد کو کم بھی کر سکتے ہیں۔
نیند پر اثر اور دماغی صحت
ماہرین کا کہنا ہے کہ کیفین نیند کو متاثر کر سکتی ہے جبکہ نیند دماغ کو زہریلے مادوں سے صاف کرنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ اسی لیے سونے سے پہلے کیفین لینے سے گریز کرنا چاہیے۔
کیا بچوں کے لیے کیفین محفوظ ہے؟
تحقیق میں بچوں پر کیفین کے اثرات کا جائزہ نہیں لیا گیا، تاہم ماہرین کے مطابق 12 سال سے کم عمر بچوں کو کیفین سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ اس عمر میں نیند دماغی نشوونما کے لیے انتہائی ضروری ہوتی ہے۔
دماغی صحت بہتر بنانے کے دیگر طریقے
ماہرین کے مطابق صرف کافی یا چائے ہی نہیں بلکہ دیگر صحت مند عادات بھی دماغ کو مضبوط بناتی ہیں:
متوازن غذا:
پھل، سبزیاں، مچھلی اور زیتون کا تیل دماغی صحت کے لیے مفید ہیں۔ بیریز اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور غذائیں یادداشت کو بہتر بناتی ہیں۔
باقاعدہ ورزش:
ورزش دماغ تک خون اور آکسیجن کی فراہمی بہتر بناتی ہے اور یادداشت کو مضبوط کرتی ہے۔
اچھی نیند:
روزانہ 7 سے 9 گھنٹے کی معیاری نیند دماغی صحت کے لیے ضروری ہے
سماجی تعلقات:
لوگوں سے میل جول اور گفتگو دماغی صلاحیت کو بہتر بناتی ہے اور عمر بڑھنے کے ساتھ دماغ کو فعال رکھتی ہے۔
ماہرین کے مطابق کافی یا چائے کو صحت مند طرز زندگی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے، لیکن دماغی صحت کے لیے متوازن غذا، ورزش، اچھی نیند اور سماجی سرگرمیاں بھی اتنی ہی اہم ہیں۔

تحریر کے بارے میں اپنی رائے بھیجیں