![]() |
| فوٹو:وکی پیڈیا |
پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین اور سابق وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کی 47ویں برسی آج ملک بھر میں منائی جا رہی ہے۔ مختلف شہروں میں تقریبات، دعائیہ اجتماعات اور خراجِ عقیدت پیش کرنے کے پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں۔
ذوالفقار علی بھٹو کو 4 اپریل 1979 کو راولپنڈی میں قتل کے ایک مقدمے میں پھانسی دی گئی تھی۔ تاہم سپریم کورٹ نے مارچ 2024 میں اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ اس مقدمے میں ذوالفقار علی بھٹو کا ٹرائل منصفانہ نہیں تھا۔
ذوالفقار علی بھٹو 5 جنوری 1928 کو لاڑکانہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد کیلیفورنیا اور بعد ازاں آکسفورڈ یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔ سیاسی سفر کا آغاز انہوں نے 1963 میں اس وقت کیا جب وہ جنرل ایوب خان کی کابینہ میں وزیر خارجہ مقرر ہوئے۔
بعد ازاں اختلافات کے باعث انہوں نے 30 نومبر 1967 کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی، جو جلد ہی ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت بن گئی۔ ذوالفقار علی بھٹو 1971 سے 1973 تک صدر پاکستان اور بعد ازاں 1973 سے 1977 تک منتخب وزیرِاعظم رہے۔
ان کے دور حکومت میں 1973 کا متفقہ آئین منظور کیا گیا، پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی گئی اور اسلامی ممالک کو قریب لانے کی کوششیں کی گئیں۔ انہیں ملکی اور عالمی سطح پر ایک بااثر رہنما کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1971 کے بعد کے مشکل حالات میں بھٹو کی قیادت نے قوم کا اعتماد بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
صدر آصف علی زرداری نے 1973 کے آئین کو ذوالفقار علی بھٹو کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں قائم کی گئی پالیسیاں اور ادارے آج بھی ملک کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

تحریر کے بارے میں اپنی رائے بھیجیں