![]() |
| فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر ایران پر ممکنہ حملوں کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے،ٹرمپ |
جے ڈی وینس کا دورۂ پاکستان منسوخ، ٹرمپ کا جنگ بندی میں توسیع اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا پاکستان کا مجوزہ دورہ منسوخ کر دیا گیا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں جنگ بندی میں توسیع اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق جے ڈی وینس کا دورہ امن مذاکرات کے سلسلے میں متوقع تھا، تاہم بدلتی ہوئی صورتحال کے باعث اسے منسوخ کر دیا گیا۔ اس فیصلے کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مذاکراتی عمل میں سست روی سے جوڑا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر ایران پر ممکنہ حملوں کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اس وقت تک کسی بڑی فوجی کارروائی سے گریز کرے گا جب تک ایران کی قیادت ایک مشترکہ اور واضح مذاکراتی تجویز پیش نہیں کر دیتی۔
دوسری جانب ایران نے امریکی اقدامات پر شدید ردعمل دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ جنگ کے مترادف ہے اور یہ اقدام جنگ بندی کی خلاف ورزی بھی تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران اپنی خودمختاری اور اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔
ادھر پاکستان کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کے فیصلے کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس فیصلے سے مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوگا اور خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مدد ملے گی۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد کے لیے ایران کے جواب کا منتظر ہے۔ ان کے مطابق پاکستان خطے میں امن کے لیے ثالثی کا کردار جاری رکھے گا اور تمام فریقین کو بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دے گا۔
اس دوران صدر ٹرمپ نے متحدہ عرب امارات کو "اچھا اتحادی" قرار دیتے ہوئے مالی تعاون اور کرنسی کے تبادلے کے امکانات کا بھی عندیہ دیا۔ مبصرین کے مطابق یہ اقدام خطے میں امریکی سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد اتحادی ممالک کی حمایت برقرار رکھنا اور ایران پر دباؤ بڑھانا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جے ڈی وینس کے دورے کی منسوخی، جنگ بندی میں توسیع اور ناکہ بندی کے جاری رہنے کے فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ خطے میں صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے، تاہم سفارتی کوششیں جاری ہیں اور پاکستان اس عمل میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

تحریر کے بارے میں اپنی رائے بھیجیں