![]() |
| سکرین شاٹ : فائل فوٹو |
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا کے اعلیٰ مذاکرات کار ایران سے جاری کشیدگی ختم کرنے کے لیے پیر کے روز اسلام آباد پہنچیں گے، جہاں منگل کے روز ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور متوقع ہے۔
اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ ایک “منصفانہ اور معقول معاہدہ” چاہتا ہے، تاہم اگر ایران نے اس پیشکش کو قبول نہ کیا تو اسے سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
امریکی صدر نے امریکی اخبارنیویارک پوسٹ کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ کے لیے ان کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جارڈ کشنر مذاکرات میں شرکت کے لیے اسلام آباد جا رہے ہیں۔
اور میں بھی بعد میں کسی تاریخ پر جاسکتا ہوں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ان مذاکرات کا مقصد ایران کے ساتھ جاری تنازع میں کمی لانا اور کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنا ہے، جبکہ امریکی حکام کو امید ہے کہ بات چیت کے ذریعے کشیدگی کم کرنے میں پیش رفت ہو سکے گی۔
ایران کی جانب سے اب تک اسلام آباد میں مذاکرات کے نئے دور کی باضابطہ تصدیق یا تردید نہیں کی گئی، تاہم دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے یہ مذاکرات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنے کی اہم کوشش سمجھے جا رہے ہیں، جبکہ عالمی برادری بھی اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

تحریر کے بارے میں اپنی رائے بھیجیں