![]() |
| فوٹو: سکرین شاٹ |
بیجنگ میں منعقدہ ہاف میلتھون میں چینی ہیومنائیڈ روبوٹس (انسان نما روبوٹس) نے اپنی حیرت انگیز رفتار اور مہارت سے دنیا کو دنگ کر دیا۔ اس ریس میں درجنوں مقامی روبوٹس نے نہ صرف حصہ لیا بلکہ انسانی کھلاڑیوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کا ثبوت دیا۔
خبر کی اہم تفصیلات:عالمی ریکارڈ سے تیز رفتار: اسمارٹ فون کمپنی 'آنر' (Honour) کے تیار کردہ روبوٹ نے محض 50 منٹ اور 26 سیکنڈز میں 21 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ یہ وقت جیکب کیپلیمو کے بنائے ہوئے انسانی ورلڈ ریکارڈ سے بھی کئی منٹ کم ہے۔
خودکار نیویگیشن: گزشتہ سال کے برعکس، اس بار تقریباً آدھے روبوٹس نے ریموٹ کنٹرول کے بجائے مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے خودکار طریقے سے راستہ تلاش کیا اور دوڑ مکمل کی۔
فاتح ٹیم کے انجینئرز کے مطابق، ان روبوٹس میں خاص طور پر اسمارٹ فونز والی 'لیکویڈ کولنگ' ٹیکنالوجی استعمال کی گئی تاکہ تیز رفتاری کے دوران سسٹم گرم نہ ہو۔ ان کی ٹانگیں بھی ایلیٹ ایتھلیٹس کی طرز پر ڈیزائن کی گئی ہیں۔
صنعتی انقلاب کی امید: ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ابھی یہ ٹیکنالوجی ابتدائی مراحل میں ہے، لیکن روبوٹس کی یہ جسمانی چستی مستقبل میں مینوفیکچرنگ، خطرناک ملازمتوں اور دفاعی شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لائے گی۔
چین عالمی سطح پر روبوٹکس کا مرکز بننے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور پالیسیاں بنا رہا ہے، جس کا مقصد فیکٹریوں میں انسانی کام کی جگہ جدید ترین روبوٹس کو لانا ہے۔
شائقین اور خاص طور پر نوجوان طالب علموں نے اس ایونٹ کو مستقبل کی 'AI نسل' کا آغاز قرار دیا ہے۔
Dozens of Chinese-made humanoid robots showed off their fast-improving athleticism and autonomous navigation skills as they whizzed past human runners in a half-marathon race in Beijing https://t.co/63Fj9JMACd pic.twitter.com/njcud3x0Zs
— Reuters (@Reuters) April 19, 2026

تحریر کے بارے میں اپنی رائے بھیجیں