امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپٹ نے ایران پر دباؤ میں اضافے کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں مزید بحری طاقت تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق امریکا خطے میں دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھیج رہا ہے تاکہ ایران کے ساتھ ممکنہ جوہری معاہدے کے حوالے سے دباؤ برقرار رکھا جا سکے۔
شمالی کیرولائنا کے ایک فوجی اڈے سے روانگی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ معاہدہ چاہتا ہے اور امید ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوں گے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر بات چیت نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئی تو ایران کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایران میں سیاسی تبدیلی کو بھی ایک ممکنہ مثبت پیش رفت قرار دیا اور کہا کہ کئی دہائیوں سے جاری کشیدگی کا حل ضروری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے جوہری معاہدے پر آمادگی ظاہر نہ کی تو خطے میں موجود امریکی بحری قوت کو مزید فعال کیا جا سکتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق دنیا کے جدید ترین طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈکو کیریبین سے مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ کیا جا رہا ہے، جہاں وہ پہلے سے تعینات امریکی بحری بیڑے کا حصہ بنے گا۔ اس سے قبل امریکی طیارہ بردار جہازیو ایس ایس ابراہم لنکن اور اس کے ہمراہ گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز بھی خطے میں موجود ہیں۔
یہ بیان اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد سامنے آیا، جس کے بعد خطے کی صورتحال پر عالمی توجہ مزید بڑھ گئی ہے۔
دوسری جانب خلیجی عرب ممالک نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی سے مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی اور بڑی جنگ چھڑنے کا خدشہ ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت اور امن و امان پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

تحریر کے بارے میں اپنی رائے بھیجیں