![]() |
| فائل فوٹو |
کوژک ٹاپ کے علاقے میں شدید سائبیرین ہواؤں کے باعث سردی کی شدت میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جہاں این 25 چمن–کوئٹہ–کراچی قومی شاہراہ پر درجہ حرارت منفی 12 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ شیلاباغ کے قریب سڑک پر شدید پھسلن کے باعث متعدد گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں، جس کے نتیجے میں 2 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 7افراد زخمی ہوئے۔ کوئٹہ میں موسمِ سرما کی پہلی برف باری جاری ہے۔
ادھر خیبر پختونخوا کے مختلف بالائی علاقوں بشمول مانسہرہ، بالائی گلیات، شانگلہ، لوئر دیر، مہمند، کالام، اورکزئی، چترال اور خیبر میں بھی شدید برف باری کا سلسلہ جاری رہا۔ ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں بارش اور برف باری کے باعث تقریباً سو گاڑیاں مختلف مقامات پر پھنس گئیں، تاہم ریسکیو کارروائی کے دوران 35 افراد کو بحفاظت محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔
شانگلہ میں بھاری برف باری کے بعد بجلی کی فراہمی کا نظام بری طرح متاثر ہوا، جبکہ چترال میں برف پڑنے کے باعث متعدد رابطہ سڑکیں بند ہونے سے آمدورفت معطل ہو گئی ہے۔
مری میں مسلسل برفباری کے باعث مری ایکسپریس وے کو جزوی طور پر عام ٹریفک کے لیے بند کیا گیا ہے۔
سیاحتی مقام ناران میں اب تک تقریباً چھ انچ جبکہ شوگران میں ڈیڑھ انچ برفباری ریکارڈ کی گئی ہے۔ شوگران میں برف پڑنے کے بعد بڑی تعداد میں سیاح اس حسین منظر سے لطف اندوز ہونے کے لیے علاقے کا رخ کر رہے ہیں۔
چلاس، بابوسر ٹاپ، نانگا پربت، بٹوگاہ، داریل اور تانگیر میں بھی برف پڑنے سے موسم مزید سرد ہو گیا ہے۔ آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں بارش ہوئی، جبکہ ہٹیاں بالا، چناری، چکوٹھی، لیپا ویلی، گنگا چوٹی، اڑنگ کیل، گریس اور سرگن ویلی سمیت بالائی علاقوں میں وقفے وقفے سے برفباری کا عمل جاری ہے۔
دوسری جانب گلگت بلتستان کے ضلع استور کے بالائی علاقوں میں دو سے تین فٹ تک برف جم چکی ہے، جس کے نتیجے میں تمام بالائی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے اور مکین گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ ہنزہ اور نگر میں بھی برفباری کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ زلزلے سے متاثرہ چیپورسن کے علاقے میں خیموں میں رہنے والے متاثرین کو شدید سردی اور برفباری کے باعث اضافی مشکلات کا سامنا ہے۔
دوسری طرف راولپنڈی اسلام آباد سمیت ملک کے کئی علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش جاری ہے جس سے موسم مزید سرد ہوگیا ہے۔
.jpg)
تحریر کے بارے میں اپنی رائے بھیجیں