--> تفہیم القرآن(سولھواں پارہ)جناب ذو القرنین کا قصہ اور حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت | Haqaaiq

[پاکستان]_$type=three$h=250$c=6$author=hide$comment=hide$rm=hide$date=hide$snippet=hide$show=home

تفہیم القرآن(سولھواں پارہ)جناب ذو القرنین کا قصہ اور حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت

شیئر کریں:



تحریر:پروفیسرڈاكٹر عبد الماجد ندیم
جامعہ پنجاب لاہور
سولھواں پارہ 🌹قَالَ اَلَمْ🌹*
اس پارے كا خلاصہ ہم تين حصوں میں پیش كریں گے ، (۱) ”سورة الكہف“كا بقيہ حصہ (۲) ”سورة مریم“مكمل (۲) ”سورة طہ“مكمل
گزشتہ پندرھواں پارہ مصحف كی ترتیب كے مطابق اٹھارھویں سورت ”سورة الكھف“ كی آیت نمبر ۷۴ پر مكمل ہوا تھا ،اب یہ سولھواں پارہ اس كی آیت نمبر ۷۵سے شروع ہور ہا ہے،لہذا اس كی ۳۶ آیات تین ركوعوں میں اس پارے میں شامل ہیں ۔ پھر مصحف كی ترتیب سےانیسویں سورت ”سورة مریم“ بھی مكمل اسی پارے میں ہے ، اس كی مجموعی آیات كی تعداد ۹۸ ہے جو چھے ركوعوں میں ہیں ، اور بیسویں سورت ” سورة طہ “ بھی مكمل اسی پارے میں ہے ، اس كی آیات كی تعداد ۱۳۵ ہے جو ۸ ركوعوں میں ہیں۔
اس طرح سولھویں پارے كا پہلا حصہ ”سورة الكہف“ بقیہ ۳۶ آیات (تین ركوعوں میں ) ، دوسرا حصہ ”سورة مریم“ مكمل ، ۹۸ آیات ( چھے ركوعوں میں ) اور تیسرا حصہ ” سورة طہ“ مكمل،۱۳۵ آیات (آٹھ ركوعوں میں ) اس پارے میں ہیں ، تو مجموعی طور پر سولھویں پارے میں سترہ ركوع ہیں ، جن میں ۲۶۹ آیات ہیں۔
🌹پہلا حصہ –سورة الكھف ، ۳۶ آیات (۷۵ – ۱۱۰)🌹
اس میں تین نكات ہمارے سامنے ہیں:
۱. حضرت موسی علیہ السلام اور ایك برگزیدہ شخصیت حضرت خضر كا قصہ (جو گزشتہ پارے سے شروع ہوا تھا)
۲. جناب ذو القرنین كا قصہ۔
۳. اللہ كی یاد سے غافل لوگوں كے لیے جہنّم كی وعید
۱. حضرت موسی علیہ السلام اور ایك برگزیدہ شخصیت حضرت خضر كا قصہ
اس قصے كا ابتدائی حصہ ہم گزشتہ پارے میں پڑھ چكے كہ ایك برگزیدہ شخصیت جن كے پاس اللہ كی طرف سے خاص علم تھا ، سے حضرت موسی علیہ السلام كی ملاقات ہوئی ، حضرت موسی علیہ السلام نے ان كے ساتھ رہنے كی اجازت مانگی انھوں نے اس شرط كے ساتھ اجازت دے دی كہ آپ كوئی سوال نہیں كریں گے جب تك میں خود آپ كو ان كی حقیقت نہ بتا دوں۔ پھر تین عجیب واقعات پیش آئے، جن میں سے دو واقعات گزشتہ پارے میں گزر چكے ، جن پر حضرت موسی علیہ السلام بول پڑے اور سوال اٹھا لیا اور حضرت خضر نے انھیں شرط یاد دلائی جس پر حضرت موسی علیہ السلام خاموش رہ گئے۔ اب اس سورت میں تیسرا واقعہ جو پیش آیا وہ یوں تھا كہ انھوں نے ایك ایسے گاؤں میں گرتی ہوئی بوسیدہ دیوار كی تعمیر شروع كر دی جس گاؤں والوں نے انھیں كھانا تك كھلانے سے انكار كر دیا تھا۔ حضرت موسی علیہ السلام پھر پوچھ بیٹے كہ آپ نے ایسا كیوں كیا ؟اس سوال كے بعد حضرت خضر نے جدائی كا اعلان كر دیا كہ اب آپ میرے ساتھ نہیں چل سكتے، البتہ انھوں نے تینوں واقعات كی اصل حقیقت آپ كے سامنے بیان كر دی ، فرمایا كشتی كا تختہ اس لیے توڑا تھا كیونكہ سمندر كے دوسرے پار ایك ظالم بادشاہ ہے جو ہر سالم كشتی زبردستی چھین لیتا ہے ، تو میں نے اسے عیب دار كر دیا یوں ان مسكینوں كا ذریعہ معاش محفوظ رہا ۔ دوسرا واقعہ بچے كے قتل كا تھا اس كی وجہ بتائی كہ اس كے والدین مؤمن تھے اس كے بارے میں یہ خدشہ لاحق ہو گیا تھا كہ یہ انھیں كسی بڑے میں دو چار كر دے گا ، جس كی وجہ سے وہ انھیں كفر كی نجاست میں مبتلا كر دے گا ، اس لیے اللہ نے اسے مارنے كا اور اس كے بدلے انھیں با كردار اور محبت و اطاعت كرنے والی اولاد دینے كا فیصلہ فرمایا۔ تیسرا واقعہ گرتی ہوئی دیوار اس لیے تعمیر كی كیونكہ اس میں شہر كے دو یتیم بچوں كا فائدہ پیش نظر تھا، ان كے والد اللہ كے نیك بندے تھے، دیوار كے نیچے ان دونوں كا خزانہ پوشیدہ تھا ، تو آپ كے رب كا ارادہ یہ تھا كہ وہ یتیم بچے جوان ہونے كے بعد اس خزانے كو نكال كر اپنے كام لا سكیں۔ حضرت خضر نے ان تینوں واقعات كے پس ِ پردہ حقائق بیان فرمانے كے بعد فرمایا كہ یہ ہیں وہ حقائق ان واقعات كے جن پر آپ خاموش نہیں رہ سكے ،اور ان میں سے كوئی كام میں نے اپنی مرضی سے نہیں كیا ۔
۲. جناب ذو القرنین كا قصہ۔
نبی پاك صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جنا ب ذو القرنین كے حوالے سے سوال ہوا تھا اس كے جواب میں یہ قصہ قرآن نے بیان كیا ہے كہ جناب ذو القرنین بڑے وسائل والے اور ایمان و عمل صالح والے انصاف پسند اور مظلوموں كی مدد كرنے والے بادشاہ تھے ، ان كا گزر ایك قوم پر ہوا جو ایك دوسری وحشی قوم كے ظلم كا نشانہ بنی ہوئی تھی جسے قرآن نے ”یاجوج“ اور ”ماجوج“ كا نام دیا ہے ۔جنا ب ذو القرنین نے یاجوج ماجوج پر ایك ایسی بے مثال بندش پیدا كر دی كہ قیامت تك ان كا راستہ بند كر دیا اب صرف قربِ قیامت میں ہی وہ ظاہر ہو سكیں گے۔
۳. اللہ كی یاد سے غافل لوگوں كے لیے جہنّم كی وعید
ان واقعات كے بعد آخر میں یہ بتا دیا گیا ہے كہ جو لوگ اللہ كی نشانیوں اور یاد سے غافل ہیں ان كی آنكھوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں اور نہ ہی سننے كے قابل رہ گئے ہیں ان كا انجام جہنم ہے ، اور بد ترین خسارے والے اعمال ان لوگوں كے ہیں جنھوں نے دنیا كی زندگی كو ہی اپنا مقصد سمجھ لیا ہے اور وہ اس گمان میں ہیں كہ وہ بڑے كارہائے نمایاں انجام دے رہے ہیں جب كہ اللہ كی نشانیوں اور اس كے ملاقات كے انكار كے باعث ان كا سب كیا كرایا برباد ہو جائے گا اس كی اللہ كے ہاں كوئی قیمت نہیں ہو گی۔جب كہ ان كے مقابلے پر ایمان اور نیك اعمال كرنے والوں كو جنات الفردوس كی مہمانی دی جائے گی جہاں ہمیشہ ان كا ٹھہراؤ ہو گا ۔
🌹 دوسرا حصہ –سورة مریم ، مكمل ، ۹۸ آیات 🌹
اس سورت میں حروف مقطعات كے معًا بعد بارہ انبیائے كرام علیھم السلام كا تذكر ہ ہے؛ چار انبیائے كرام علیھم السلام (۱)، (۲) حضرت زكریا و یحی علیھما السلام (۳) حضرت عیسی علیہ السلام ، اور (۴) حضرت ابراہیم علیہ السلام كا تذكرہ قدرے تفصیل سے ہے۔ اور باقی آٹھ انبیائے كرام (۱) حضرت اسحاق علیہ السلام، (۲) حضرت یعقوب علیہ السلام، (۳) حضرت موسی علیہ السلام ، (۴) حضرت ہارون علیہ السلام، (۵) حضرت اسماعیل علیہ السلام، (۶) حضرت ادریس علیہ السلام ، (۷) حضرت آدم علیہ السلام، اور (۸) حضرت نوح علیہ السلام ، كا تذكرہ اختصار سے آیا ہے ۔
قدرے تفصیل سے آنے والے تذكروں میں ابتدائی طور پر حضرت زكریا علیہ السلام كا نام گرامی اور ان كے ہاں حضرت یحی علیہ السلام كی غیر معمولی ولادت كا آیا ہے ، حضرت زكریا علیہ السلام نے اپنے بڑھاپے اور بیوی كے بانجھ پن كے باوجود اللہ كی رحمت سے لو لگا كر اپنے لیے بیٹے كی دعا كی ، اللہ تعالی نے آپ كو حضرت یحی علیہ السلام كی صورت میں نہ صرف ایك اعلی كردار كا مالك بیٹا عطا فرمایا بلكہ ساتھ ہی ان كو نبوت سے بھی سرفراز فرمایا ۔
دوسرا واقعہ حضرت عیسی علیہ السلام كی ولادت كے تذكرے میں ہے اللہ تعالی نے حضرت عیسی علیہ السلام كو بغیر باپ كے حضرت مریم كے ہاں پیدا فرمایا اور عیسی علیہ السلام كو بچپن ہی میں بولنے كی صلاحیت سے نوازا ۔
تیسرا واقعہ حضرت ابراہیم علیہ السلام كا سامنے آتا ہے كہ انھوں نے اپنے والد كو توحید كی پُر زور اور لا جواب دلائل سے بھر پور دعوت دی۔
ان انبیائے كرام كے قصوں كے دوران اور ان كے بعد یہ واضح كیا گیا كہ یہ اللہ كے انعام یافتہ ، اللہ كے سامنے جھك جانے والے ، سجدے كرنے والے اور گڑگڑانے والے لوگ ہیں ، اِن كے راستے پر چلنے والے ہی كامیاب ہوں گے، لیكن جو لوگ ان كے بعد ان كے راستے سے ہٹ گئے نمازوں كو ضائع كر دیا اور لذتون میں پڑ گئے وہ گمراہ اور تباہ ہونے والے ہیں۔
🌹 تیسرا حصہ –سورة طہ ، مكمل، ۱۳۵ آیات🌹
اس میں تین نكات ہمارے سامنے آتے ہیں:
۱. قرآن كا نزول من اللہ ہونا اور نبی پاك صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كو تسلّی
۲. حضرت موسی علیہ السلام كا قصہ
۳. حضرت آدم علیہ السلام كا قصہ
۱. قرآن كا نزول من اللہ ہونا اور نبی پاك صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كو تسلّی
حضرت محمد رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن كی تلاوت، حفاظت اور دعوت میں اس قدر مشقت اٹھاتے تھے كہ اپنی جان جوكھوں میں ڈال دیتے ، تو یہاں حروف مقطعات ”طہ“ سے اس سورت كو شروع فرما كر دوسری آیت میں فرما دیا كہ یہ قرآن آپ پر ہم نے نازل كیا ہے اس كا مقصد آپ كو تكلیفوں میں ركھنا نہیں ہے یہ تو ایك نصیحت كی كتاب ہے اس شخص كے لیے جو اللہ كا خوف ، خشیت ركھتا ہے ۔ اس كتاب كو اتارنے والی ذات كا اختیار لا محدودہے آسمانوں ، زمینوں اور تحت الثری كے بھی نیچے جو كچھ ہے سب اسی كے اختیا رمیں ہے اور اس كا علم ظاہر و باطن سب پر حاوی ہے اور وہ ہر كمال كا مرجع و منبع ہے ۔ اس كے بعد حضرت موسی علیہ السلام كا قصہ ہے۔
۲. حضرت موسی علیہ السلام كا قصہ
نبی پاك صلی اللہ علیہ وسلم كو تسلّی دینے كے بعد حضرت موسی علیہ السلام كا طویل قصہ ہے اس قصے سے یہ واضح یہ بھی واضح كیا گیا ہے كہ ان كو اللہ تبارك وتعالی كی طرف سے نبوت و رسالت پانے كے بعد كس طرح كے حالات سے گزرنا پڑا۔ اس قصے میں جو حالات بیان كیے گئے ہیں ان میں بنیادی نكات یہ ہیں:
اللہ تبارك وتعالی سے ہم كلامی، پیدائش كے فوری بعد دریا میں ڈالا جانا، پھر رضاعت كے لیے حقیقی والدہ كی طرف آپ كا واپس آنا، پھر عالم جوانی میں مظلوم كو ظالم سے بچانے كے لیے ایك قبطی كو مكہ مارنا اور اس كا اسی مكے سے مر جانا، اللہ تعالی كا آپ كو اس كے قصاص سے نجات دلانا، پھر كئی سال آپ كا مدین میں رہنا، پھر اللہ تبارك وتعالی كی طرف سے آپ كو اور آپ كے بھائی حضرت ہارون علیھما السلام كو فرعون كے پاس جانے كا حكم اور اس كے ساتھ گفتگو كے اصول كا بیان، پھر فرعون كی ڈھٹائی اور حضرت موسی كے معجزوں كو جادو قرار دے كر جادوگروں كے ساتھ مقابلہ كروانا، پھر جادو گروں كی شكست اور ان پر یہ عیاں ہو جانا كہ حضرت موسی علیہ السلام كا معجزہ كسی قسم كا جادو نہیں ہے یہ محض ربّ كی براہ راست عطا ہے ، اس طرح جادو گروں كا ایمان ے آنا ، اس پر فرعون كا ان كو دھمكی دینا مگر دھمكی كے باوجود ان ایمان لانے والوں كا اپنے ایمان پر پختہ رہنا ، پھر فرعون كے ظلم اور غلامی سے بچنے كے لیے بنو اسرائیل كا اللہ كے نبی كی قیادت میں مصر خروج، فرعون كا اپنے لاؤ لشكر سمیت ان كا تعاقب كرنا اور اللہ تعالی كی خصوصی قدرت سے حضرت موسی علیہ السلام اور ان كے ہم سفر بنو اسرائیل كا بچ جانا اور فرعون كا مع اپنے لشكر كے غرق ہو جانا، آزادی كے بعد بنو اسرائیل كا اللہ كی نعمتوں كے مقابلے پر مسلسل نا شكری كا رویہ اپنانا، بچھڑے كی پوجا كرنا اور دیگر گمراہیاں وغیرہ۔
۳. حضرت آدم علیہ السلام كا قصہ
اسی طرح حضرت آدم علیہ السلام كا قصہ بھی اس سورت كے آخری حصے میں آیا ہے كہ اللہ تعالی نے انھیں مسجود ملائكہ بنایا ، شیطان نے سجدہ كرنے سے انكار كیا اور بغاوت اور دشمنی كی روش اپنائی اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام سے فرمایا كہ یہ تمھارا دشمن ہے اس سے محتاط رہنا كہیں یہ تمھیں جنت سے نكلوا ہی نہ دے، ساتھ ہی دیگر ہدایات دیں ، مگر شیطان نے وسوسہ پیدا كردیا اور حضرت آدم و حواء علیھما السلام نے اس درخت سے كچھ كھا لیا جس سے منع كیا گیا تھا، اللہ تعالی نے انھیں جنت سے باہر كر دیا انھوں نے اپنی شرمندگی كا اظہار كیا اور اللہ تعالی سے خوب معافی مانگی اللہ تعالی نے انھیں معاف كر دیا اور اپنی ہدایت كا ذریعہ بنا كر دنیا میں مبعوث فرمایا۔

تحریر کے بارے میں اپنی رائے بھیجیں

مقبول ترین_$type=three$author=hide$comment=hide$rm=hide$date=hide$snippet=hide$c=9$shide=home

مزید اہم تحریریں_$type=three$author=hide$comment=hide$rm=hide$date=hide$snippet=hide$c=9$shide=home

نام

پاکستان,107,تعلیم,51,ٹیکنالوجی,34,دلچسپ وعجیب,10,دنیا,53,شوبز,6,صحت,21,کاروبار,38,کالم,3,کھیل,23,ویڈیوز,43,
rtl
item
Haqaaiq: تفہیم القرآن(سولھواں پارہ)جناب ذو القرنین کا قصہ اور حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت
تفہیم القرآن(سولھواں پارہ)جناب ذو القرنین کا قصہ اور حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت
Understanding the Qur'an (sixteenth paragraph) The story of Mr. Zu al-Qarnain and the birth of Hazrat Isa (peace be upon him). Hazrat moosa Maryam
https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEguzzYTNU6HUyEXbJovBI-7Ip9L27AsaeaH0sbnRT-OSFmwgxNMu4VrFrxuB7FvZra2nizA-uv8r3qdsQ5tlBj6NdGnBE0v4zkW2Yijv3KGFfrutVRHnb1GUyvC_hTk3FRl4mTCEERaezx9pNYfrDtcUiQguxfpYzt8rsviSCOyX767saHC-an_Rxc7WA/s16000/quran-g4c1c32d4f_1920.jpg
https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEguzzYTNU6HUyEXbJovBI-7Ip9L27AsaeaH0sbnRT-OSFmwgxNMu4VrFrxuB7FvZra2nizA-uv8r3qdsQ5tlBj6NdGnBE0v4zkW2Yijv3KGFfrutVRHnb1GUyvC_hTk3FRl4mTCEERaezx9pNYfrDtcUiQguxfpYzt8rsviSCOyX767saHC-an_Rxc7WA/s72-c/quran-g4c1c32d4f_1920.jpg
Haqaaiq
https://www.haqaaiq.com/2023/04/Understanding-Quran-sixteenth-para-story-Zual-Qarnain-birth-Hazrat-Isa.html
https://www.haqaaiq.com/
https://www.haqaaiq.com/
https://www.haqaaiq.com/2023/04/Understanding-Quran-sixteenth-para-story-Zual-Qarnain-birth-Hazrat-Isa.html
true
913436328015187053
UTF-8
تمام تحریروں کو لوڈ کیا کوئی تحریر نہیں ملی تمام دیکھیں مزید پڑھیں جواب دیں جواب منسوخ کریں حذف کریں بذریعہ صفحۂ اول صفحات تحریریں تمام دیکھیں آپ کیلئے تجویز کردہ عنوان آرکائیو تلاش کریں تمام تحریریں آپ کی درخواست پر کوئی ملتی جلتی تحریر نہیں ملی واپس صفحۂ اول اتوار پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر ابھی ابھی 1 منٹ پہلے $$1$$ منٹ پہلے 1 گھنٹہ پہلے $$1$$ گھنٹے پہلے کل $$1$$ دن پہلے $$1$$ ہفتے پہلے 5 ہفتے پہلے فالوورز فالو یہ پریمیم مواد مقفل ہے مرحلہ 1: سوشل نیٹ ورک پرشیئر کریں مرحلہ 2: اپنے سوشل نیٹ ورک کے لنک پر کلک کریں تمام کوڈ کو کاپی کریں تمام کوڈ کو منتخب کریں تمام کوڈز کو آپ کے کلپ بورڈ میں کاپی کیا گیا کوڈز / متن کو کاپی نہیں کرسکتے ہیں ، براہ کرم کاپی کرنے کے لئے [CTRL] + [C] (یا سی ایم ڈی + سی میک کے ساتھ دبائیں) متن کی فہرست