--> تفہیم القرآن(بائیسواں پارہ)گھریلو امور کے خصوصی آداب | Haqaaiq

[پاکستان]_$type=three$h=250$c=6$author=hide$comment=hide$rm=hide$date=hide$snippet=hide$show=home

تفہیم القرآن(بائیسواں پارہ)گھریلو امور کے خصوصی آداب

شیئر کریں:



تحریر:پروفیسر ڈاکٹر عبدالماجد ندیم
جامعہ پنجاب لاہور
پارہ وار خلاصہ مضامین قرآن مجید
بائیسواں پارہ🌹وَمن یَّقْنُتْ🌹
بائیسواں پارہ چار حصّوں پر مشتمل ہے، (۱) ”سورة الأحزاب“ كا بقیہ حصہ ،(۲) ”سورة سبأ “مكمل، (۳) ”سورة فاطر“مكمل،(۴) ”سورة یس“ابتدائی حصہ۔
سورة الأحزاب كی آخری ۴۳ آیات پر مشتمل ۶ ركوع، سورة سبأ ۵۴ آیات پر مشتمل ۶ ركوع، سورة فاطر ۴۵ آیات پر مشتمل ۵ ركوع، سورة یٰس ۲۱ آیات جو كہ نو آیات زائد ایك ركوع بنتے ہیں ،بائیسویں پارے میں ہیں۔
اس طرح بائیسویں پارے میں مجموعی طور پر ۱۶۳ آیات ہیں جو نو آیات زائد۱۸ ركوعوں میں ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
🌹پہلا حصہ –سورة الأحزاب ،آخری ۴۳آیات ،(۳۱ - ۷۳) 🌹
سورة الأحزاب كے اس بقیہ حصے میں سات نكات نمایاں ہیں :
۱. ازواج مطہرات سے خطاب اور ان كے لیے سات احكام
۲. اللہ تعالی كی طرف سے مغفرت اور اجر عظیم پانے والی شخصیات كی صفات
۳. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم كا نكاح اور جاہلیت كے ایك فرسودہ تصوّر كا ردّ
۴. نبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم كی صورت میں اللہ تعالی كا مؤمنوں پر بہت بڑا فضل اور آپ علیہ الصلاة والسلام پر درود وسلام كا حكم
۵. گھریلو امور كے حوالے سے چند خصوصی آداب كی تعلیم
۶. حجاب كی فرضیت كا حكم
۷. فرائض و واجبات اور شرعی احكام كی اہمیت اور انسان كے ساتھ اس كی خصوصیت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱. ازواج مطہرات سے خطاب اور ان كے لیے سات احكام
گزشتہ پارے كے آخر میں ازواج مطہرات سے خطاب تھا ، وہی خطاب جاری ہے ۔
جب فتوحات كا دور شروع ہوا تو ازواج مطہرات نے حضور اكرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے وظیفہ اور نفقہ میں كچھ اضافہ كی درخواست كی ، اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں ۔ انھیں دو باتوں میں سے ایك بات كا اختیار دیا گیا كہ یا تو وہ خوش حالی كی زندگی بسركریں اور نبی پاك صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جدائی اختیار كرلیں یا پھر تنگی ترشی كے ساتھ زندگی بسر كریں اور اپنی نظر آخرت كی خوش عیشی پر ركھیں ، تو تمام امہات المؤمنین یعنی نبی پاك صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كی تمام ازواج مطہرات نے آخرت ہی كو ترجیح دی اس موقع پر ازواج مطہرات كی فضیلت بیان كی گئی اور ساتھ ہی انھیں سات احكام دیے گئے:(۱) غیر مردوں كے ساتھ نزاكت كے ساتھ بات نہ كریں، (۲) بلا ضرورت گھر سے نہ نكلیں ، (۳) اپنی زینت اور ستر كا اظہار كرتے ہوئے باہر مت نكلیں ، جس طرح كہ زمانہ جاہلیت كی خواتین كیا كرتی تھیں، (۴) نماز كی پابندی كریں ، (۵) زكوة دیا كریں ، (۶) اللہ اور اس كے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كی اطاعت پر كاربند رہیں ، (۷) قرآنی آیات كی تلاوت اور احادیث كا مذاكرہ كیا كریں ۔
۲. اللہ تعالی كی طرف سے مغفرت اور اجر عظیم پانے والی شخصیات كی صفات
ایك مسلمان كی شخصیت وہ مرد ہو یا عورت اس كو امتیازی حیثیت دینے والی چند صفات ہیں اگر وہ ان سے متصف ہو جائے تو اس كے لیے اللہ كی طرف سے مغفرت اور اجر عظیم تیار ہے : (۱) اسلام لے آنا ، (۲) ایمان والا ہونا، (۳) قنوت (مستقل كی اطاعت پر قائم رہنا )، (۴) صدق، (۵) صبر، (۶) خشوع، (۷) صدقہ دینا، (۸) روزے ركھنا ، (۹) شرمگاہ كی حفاظت ركھنا ، (۱۰) كثرت سے اللہ كا ذكر كرنا۔
اس كے فوری بعد ایمان والے كے لیے یہ وضاحت بھی ہے كہ جب اللہ اور رسول كا كسی حوالے سے حكم آ جائے تو پھر ان كے پاس اپنے معاملے میں سوائے اطاعت كے كوئی اختیار باقی نہیں رہتا ۔
۳. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم كا نكاح اور جاہلیت كے ایك فرسودہ تصوّر كا ردّ
اس حصے میں اس مشہور واقعہ كی طرف بھی اشارہ ہے جس كی وجہ سے حضور اكرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كو مخالفین نے سخت تنقید كا نشانہ بنایا تھا، حضرت زید رضی اللہ عنہ جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كے متبنّی (منہ بولا بیٹا) تھے ان كے اور حضور صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم كی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب رضی اللہ عنھا كے درمیان نباہ نہ ہو سكا، اور جدائی ہو گئی، تو اللہ كے حكم پر آپ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے خود حضرت زینب رضی اللہ عنھا سے نكا ح كر لیا اس پر بہت شور ہوا كہ محمد صلی اللہ علیہ نے اپنے منہ بولے بیٹے كی بیوی سے شادی كرلی ، تو اللہ تعالی نے فرمایا كہ یہ نكاح خود ہم نے كروایا تاكہ آئندہ متبنی كی مطلقہ بیوی كے ساتھ نكاح كرنے میں مسلمانوں كے لیے كوئی حرج نہ رہے۔اور اسی ضمن میں یہ اصول بھی واضح كر دیا كہ منہ بولا بیٹا حقیقت میں بیٹا نہیں بن جاتا اور اس پر حقیقی اولاد كے احكام عائد نہیں ہوتے۔
۴. نبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم كی صورت میں اللہ تعالی كا مؤمنوں پر بہت بڑا فضل اور آپ علیہ الصلاة والسلام پر درود وسلام كا حكم
یہاں اللہ تعالی نے اس عظیم ترین نعمت كی یاد دہانی كرائی ہے جو اللہ تعالی نے نبی كریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم كی صورت میں مؤمنوں پر كی ہے اور آپ كے پانچ امتیازی اوصاف كا ذكر كیا ہے : (۱) آپ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم انسانیت كے لیے اللہ كے ہاں گواہ كی حیثیت ركھتے ہیں ، (۲) اہل ایمان كو آپ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سعادت اور جنت كی بشارت دینے والے ہیں ، (۳) كفار اور فجار كو اللہ كے عذاب اور ہلاكت سے ڈرانا آپ كی ذمہ داری ہے ، (۴) آپ كی دعوت اللہ كی طرف ہے ، دنیا اور اس كی دولت و اقتدار كی نہیں ، (۵) آپ سراج منیر ہیں ، آپ كے پر نور وجود سے اندھیرے دور ہوئے ۔
اسی سورت كے اسی حصے میں ایمان والوں كو حضور صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر خوب درود وسلام كا بھی حكم دیا گیا ہے ۔
۵. گھریلو امور كے حوالے سے چند خصوصی آداب كی تعلیم
چند ایسے آداب بھی بیان كیا گئے ہیں جن آداب سے نا آشنائی بہت زیادہ تھی ، ان میں سے تین آداب یہ ہیں : (۱) یہ كہ كسی كے گھر میں بغیر اجازت داخل نہ ہوا كریں ، (۲) اگر كھانے كی دعوت میں بلایا جائے تو كھانے سے فارغ ہو كر اٹھ جایا كرو ، باتوں میں مشغول ہو كر میزبان كے لیے تنگی كا باعث مت بنو، (۳) غیر محرم خواتین سے كوئی چیز مانگنے كی ضرورت پیش آئے تو پسِ پردہ مانگا كرو ، بلا حجاب ان كے سامنے نہ آیا كرو ، البتہ اپنے محارم كے سامنے عورت كو بے پردہ آنے كی بھی اجازت ہے ۔
۶. حجاب كی فرضیت كا حكم
اس سورت كے اسی حصے میں پہلے امہات المؤمنین پر اور پھر عمومی طور پر ہر مسلم خاتون پر حجاب كی فرضیت كا حكم نازل ہوا ہے ۔
۷. فرائض و واجبات اور شرعی احكام كی اہمیت اور انسان كے ساتھ اس كی خصوصیت
سورت الأحزاب كے اختتام پر شرعی احكام كی اہمیت اور انسان كے ساتھ اس كی خصوصیت بیان كی گئی ہے كہ یہ احكام اس امانت كا حصہ ہیں جو اللہ نے بندوں كو سونپی ہے، آسمان وزمین اورپہاڑ اس كے متحمل نہیں ہو سكے كیونكہ وہ عقل و شعور اور خیر وشر كی تمیز سے محروم تھے ، اللہ تعالی نے عقل وفكر اور خیر و شر كے درمیان امتیاز كی یہ صلاحیت اور اس كے نتیجے میں اس امانت كا بوجھ انسان كو عطا كیا مگر وہ اس كا حق ادا كرنے میں كوتاہی برت رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
🌹دوسرا حصہ –سورة سبأ ،مكمل، ۵۴آیات 🌹
سورة سبأ كی ابتدا اللہ تبارك وتعالی كی حمد وثنا سے ہوتی ہے كہ اس نے ساری مخلوق كو پیدا كیا ، كائنات كے لیے مستحكم نظام قائم كیا ، سب كچھ اس كی تدبیر كی بدولت قائم ہے اسے ہر چیز كی خبر ہے اور اس كا كوئی عمل بھی حكمت سے خالی نہیں ہے اس كے بعد قیامت كی حقانیت كا بیان ہے ۔كے بعد ہمیں اس بقیہ حصے میں تین نكات نمایاں ملتے ہیں :
۱. حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیھما السلام كا قصہ ۲. اہل سبا كے غرور و تكبر كا واقعہ
۳. كفار و مشركین كو تنبیہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱. حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیھما السلام كا قصہ
حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیھما السلام پر اللہ تعالی كی نعمتوں كا تذكرہ ہے ، دونوں اللہ كے نبی ہیں اور ذكر وشكر كے ساتھ زندگی بسر كی ، حضرت داؤد علیہ السلام كو اللہ تعالی نے معجزانہ صوتی جمال عطا فرمایا تھا كہ جب وہ اللہ كی تسبیح كرتے تھے تو پہاڑ اور پرندے بھی ان كے ہم نوا بن جاتے تھے ۔ وہ جب زبور پڑھتے تو جو جانور بھی آپ كی قراءت سنتا تھا اس پر گریہ طاری ہوجاتا تھا۔اسی طرح اللہ تعالی نے حضرت داؤد علیہ السلام كو ایسا معجزہ عطا فرمایا تھا كہ ان كے ہاتھوں میں لوہا نرم ہو جاتا تھا ، وہ اسے جس طرح چاہتے موڑ لیتے ۔
اللہ تعالی نے ان كے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام پر بھی اپنی كئی خصوصی نعمتیں فرمائیں انھیں اللہ تعالی نے پرندوں كی بولیاں سكھائی تھیں ، ان كے لیے تانبا بہتے ہوئے چشمے كی شكل اختیار كر جاتا، اسے سہولت كے ساتھ حسب ضرورت استعمال كر لیتے ، جِنّات ان كے تابع تھے، آپ ان سے تعمیرات اور نقل و حمل كے مشكل كام لیتے تھے ، اسی طرح آپ علیہ السلام كے لیے ہوا كو مسخر كر دیا تھا ، ....ان عظیم الشان اور عقل كو حیرت میں ڈالنے والی نعمتوں كے باوجود با پ بیٹا فخر و غرور كا شكار نہ ہوئے بلكہ ان كا ایك ایك لحظہ اللہ تعالی كے ذكر اور شكر میں گزرتا۔دوسری طرف عام انسانوں كی حالت یہ ہے كہ وہ اللہ كے شكر سے غفلت برتتے ہیں ۔
۲. اہل سبا كے غرور و تكبر كا واقعہ
حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیھما السلام كے مقابلے پر اہل سبا كا قصہ ہے جن كو اللہ نے رزق كی فراوانی، صحت افزا آب و ہوا ، زرخیر زمین اور پھل دار باغات جیسی اس قدر نعمتیں عطا فرمائی تھیں ، طویل مسافت تك دو رویہ باغات چلے جاتے تھے ، نہ گرمی او ردھوپ ستاتی اور نہ ہی بھوك پریشان كرتی، پانی ذخیرہ كرنے كے لیے ایك ڈیم بھی تھا جسے ”سدّ مآرب“ كے نام سے یاد كیا جاتا ہے۔ لیكن انھوں نے ان نعمتوں كا شكر ادا نہ كیا بلكہ نا شكری پر اتر آئے ، لہذا یہ اللہ كے عذاب كا شكار ہوئے۔اب اہل سبا كا ذكر صرف داستانوں ہی میں ملتا ہے ۔
۳. كفار و مشركین كو تنبیہ
اس سورت میں بتایا گیا ہے كہ كفار ا ور مشركین كی سركشی اور كفر كی وجہ ان كی دنیاوی دولت اور بڑھی ہوئی دنیا پرستی ہے ، اور وہ سمجھتے تھے كہ دنیا كی نعمتوں كا لازمی مطلب آخرت كی بھی كامیابی ہے یہاں ان كی اس غلط فہمی كو دور كیاگیا ہے ، كہ دنیا كی نعمتیں امتحان ہیں آزمائش ہیں نہ كہ آخری نتیجہ، كامیابی تو آخرت كی كامیابی ہے ۔
آخری آیت میں انھیں بتایا گیا ہے كہ آج جس ایمان كی تم ناقدری كر رہے ہوكل آخرت كے دن اسی كے لیے ترسو گے لیكن تمھارے آگے پردہ حائل ہو جائے گا اور ایمان سے محرومی رہے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
🌹 تیسرا حصہ –سورة فاطر ،مكمل، ۴۵ آیات 🌹
اس سورت میں آنے والے مضامین كا خلاصہ ہم تین نكات میں بیان كر سكتے ہیں:
۱. وجود باری تعالی اور اس كی توحید كے دلائل
۲. ایمان و ہدایت اور كفر و ضلالت كے درمیان فرق سمجھانے كے لیے حسی دلائل
۳. مسلمانوں كے تین گروہوں كا بیان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱. وجود باری تعالی اور اس كی توحید كے دلائل
اس سورة میں اللہ تبارك وتعالی كے وجود پر دلائل اور توحید كی دعوت ہے ، شرك كی بنیادوں كو منہدم كیا گیا ہے ، اور دین حق پر رہنے كی تاكید آئی ہے ۔ اس سورت كی ابتدا ہی میں انسانی نظروں كو ان تكوینی آیات كی طرف متوجہ كیا گیا ہے جو اس كائنات میں ہر سُو پھیلی ہوئی ہیں جو كسی سادہ سے سادہ بندے كو بھی سمجھ میں آسكتی ہیں ۔
اس سورت میں اللہ تعالی كی وحدانیت اور قدرت كے دلائل كے ضمن میں یہ بھی واضح كیا گیا ہے كہ رنگا رنگ اور مختلف قسم كے پھول ، سفید، سرخ اور سیاہ پہاڑ، مختلف رنگتوں ، زبانوں اور مزاجوں والے انسان اور مختلف انواع كے جانور ، سب میں اللہ كی قدرت كی بے شمار نشانیاں ہیں لیكن ان نشانیوں كو دیكھ كر صرف انھی كے دل میں خشیت پیدا ہوتی ہے جو علم والے ہیں جو حقائق پر پڑےہوئے پردے اٹھا سكتے ہیں ۔
۲. ایمان و ہدایت اور كفر و ضلالت كے درمیان فرق سمجھانے كے لیے حسی دلائل
اس سورت میں ایمان و ہدایت اور كفر و ضلالت كے درمیان حسی مثالوں كے ذریعے فرق سمجھایا گیا ہے كہ جیسے بینا اور نابینا ، زندہ اور مردہ ، ظلمت و نور، اسی طرح دھوپ اور چھاؤں برابر نہیں ہو سكتے اسی طرح مؤمن اور كافر بھی برابر نہیں ہو سكتے۔
۳. مسلمانوں كے تین گروہوں كا بیان
اس سورت میں ان لوگوں كی تعریف كی گئی ہے جو كتاب اللہ كی تلاوت كرتے ہیں اور عمومی طور پر امت محمدیہ علی صاحبھا الصلاة والسلام كی فضیلت بیان فرمائی ہے جس پر اللہ نے یہ كتاب نازل فرمائی لیكن نزول قرآن كے بعد یہ امت تین گروہوں میں تقسیم ہو گئی۔(۱) ظالم: یعنی ایسے گناہ گار مسلمان جن كے گناہ ان كی نیكیوں سے زیادہ ہیں ۔ (۲) مقتصد: یعنی درمیان والے جن كی نیكیاں اور گناہ برابر ہیں ، (۳) سابق: یعنی وہ سچے مؤمن جو اطاعت و عبادت میں دوسروں سے آگے بڑھ گئے سبقت لے گئے۔
پھر سورت كے اختتام پر اللہ كے حلم اور بردباری كا ذكر ہے كہ وہ گناہوں پر فوری سزا نہیں دیتا ۔اگر ایسا ہو تو زمین پر انسان تو انسان كوئی حیوان اور چرند پرند بھی زندہ نہ رہ سكتا ،اس نےجزا سزا كے لیےایك وقت معین رك ركھا ہے وہ وقت جب آ جائے گا تو پھر كامل عدل كا نظام سامنے آ جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
🌹چوتھا حصہ –سورة یس ،ابتدائی ۲۱آیات ،(۰۱ - ۲۱) 🌹
سورة یٰسین كے اس ابتدائی حصے میں اللہ تعالی نے حضرت محمدصلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم كی رسالت كی سچائی پر قرآن كی قسم كھائی ہے ۔
پھر قریش كے كفار كو تنبیہ ہے كہ وہ كفر اور گمراہی میں بہت آگے نكل كر اللہ كے عذاب كے مستحق ہوچكے ہیں ، پھر ان كو سمجھانے كے لیے ایك ایسی بستی والوں كا ذكر ہے جنھوں نے یكے بعد دیگرے اللہ كے تین انبیا كو جھٹلایا اور جب اس بستی كے افراد ہی میں سے ایك خیر خواہ اٹھ كر ان نبیوں كی بات كو آگے چلاتے ہوئے اپنی قوم كو سمجھانے لگا تو انھوں نے اسے شہید كردیا ۔

تحریر کے بارے میں اپنی رائے بھیجیں

مقبول ترین_$type=three$author=hide$comment=hide$rm=hide$date=hide$snippet=hide$c=9$shide=home

مزید اہم تحریریں_$type=three$author=hide$comment=hide$rm=hide$date=hide$snippet=hide$c=9$shide=home

نام

پاکستان,234,تعلیم,68,ٹیکنالوجی,57,دلچسپ وعجیب,14,دنیا,126,شوبز,8,صحت,34,کاروبار,86,کالم,3,کھیل,42,ویڈیوز,43,
rtl
item
Haqaaiq: تفہیم القرآن(بائیسواں پارہ)گھریلو امور کے خصوصی آداب
تفہیم القرآن(بائیسواں پارہ)گھریلو امور کے خصوصی آداب
Understanding the Qur'an (Twenty-second paragraph) Teaching some special manners regarding domestic affairs Ruling on the obligation of hijab
https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgFaimeib4MKDLnzG97lKJvgSqtuD2IO1KWsUZLNMJHutMeYK3m-tI7sScWz6I6ORGAIX7I1iBZeoq113wZQ3YNmraC9fhHi3D7P7pZ0-5tXC8S5u2kqg_zN2Nn80ayCO_JeOZQKtcuYU58PsvOCOhXAB1ESRWNNWBg9lj2xeC6JeLl9NBWF6259taodg/s16000/quran-g23cfa0979_1920.jpg
https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgFaimeib4MKDLnzG97lKJvgSqtuD2IO1KWsUZLNMJHutMeYK3m-tI7sScWz6I6ORGAIX7I1iBZeoq113wZQ3YNmraC9fhHi3D7P7pZ0-5tXC8S5u2kqg_zN2Nn80ayCO_JeOZQKtcuYU58PsvOCOhXAB1ESRWNNWBg9lj2xeC6JeLl9NBWF6259taodg/s72-c/quran-g23cfa0979_1920.jpg
Haqaaiq
https://www.haqaaiq.com/2023/04/Understanding-Quran-Twenty-second-para-Teaching-some-special-manners-regarding-domestic-affairs.html
https://www.haqaaiq.com/
https://www.haqaaiq.com/
https://www.haqaaiq.com/2023/04/Understanding-Quran-Twenty-second-para-Teaching-some-special-manners-regarding-domestic-affairs.html
true
913436328015187053
UTF-8
تمام تحریروں کو لوڈ کیا کوئی تحریر نہیں ملی تمام دیکھیں مزید پڑھیں جواب دیں جواب منسوخ کریں حذف کریں بذریعہ صفحۂ اول صفحات تحریریں تمام دیکھیں آپ کیلئے تجویز کردہ عنوان آرکائیو تلاش کریں تمام تحریریں آپ کی درخواست پر کوئی ملتی جلتی تحریر نہیں ملی واپس صفحۂ اول اتوار پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر ابھی ابھی 1 منٹ پہلے $$1$$ منٹ پہلے 1 گھنٹہ پہلے $$1$$ گھنٹے پہلے کل $$1$$ دن پہلے $$1$$ ہفتے پہلے 5 ہفتے پہلے فالوورز فالو یہ پریمیم مواد مقفل ہے مرحلہ 1: سوشل نیٹ ورک پرشیئر کریں مرحلہ 2: اپنے سوشل نیٹ ورک کے لنک پر کلک کریں تمام کوڈ کو کاپی کریں تمام کوڈ کو منتخب کریں تمام کوڈز کو آپ کے کلپ بورڈ میں کاپی کیا گیا کوڈز / متن کو کاپی نہیں کرسکتے ہیں ، براہ کرم کاپی کرنے کے لئے [CTRL] + [C] (یا سی ایم ڈی + سی میک کے ساتھ دبائیں) متن کی فہرست