بھارتی دعوے کے بعد پاکستان نے ریٹائرڈ ایس ایس جی اہلکار محمد آصف کو میڈیا کے سامنے پیش کردیا، معاملے میں شناخت کا سوال اہم ہوگیا۔
راولپنڈی: پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے دوران محمد آصف سے متعلق متضاد دعووں نے توجہ حاصل کرلی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس کے دوران ریٹائرڈ ایس ایس جی اہلکار محمد آصف کو میڈیا کے سامنے پیش کردیا۔
بھارتی ذرائع کی جانب سے ایک کارروائی میں ہلاک ہونے والے شخص کو محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ قرار دیا گیا تھا اور اسے پاکستان سے منسلک عسکریت پسند بتایا گیا۔ تاہم پاکستان نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ محمد آصف زندہ ہیں اور پاکستان میں موجود ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران محمد آصف نے بھی اپنی موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں دوستوں نے فون کرکے سوشل میڈیا پر اپنی ہلاکت کی گردش کرتی خبروں سے آگاہ کیا۔
پاکستانی حکام نے بھارتی دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ہلاک ہونے والا شخص محمد آصف تھا تو پاکستان میں موجود محمد آصف کون ہیں؟ پاکستان نے بھارتی دعوے کی مزید وضاحت اور قابلِ تصدیق شواہد کا مطالبہ کیا ہے۔
اس معاملے کا بنیادی سوال ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت ہے۔ بھارتی جانب سے ایک شخص کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا، جبکہ پاکستان نے اسی نام سے منسوب شخص کو زندہ میڈیا کے سامنے پیش کردیا۔
ایسے حساس معاملے میں دونوں جانب کے بیانات اور دستیاب شواہد کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔ مزید قابلِ اعتماد معلومات سامنے آنے کے بعد ہی معاملے کی مکمل حقیقت واضح ہوسکے گی۔

تحریر کے بارے میں اپنی رائے بھیجیں