![]() |
فوٹو: GovtofPakistan |
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی امن، مشرق وسطیٰ کی صورتحال، پاک بھارت کشیدگی، مسئلہ کشمیر اور سندھ طاس معاہدے سمیت اہم علاقائی و عالمی امور پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب کا آغاز قرآن مجید کی تلاوت سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ 24 کروڑ امن پسند پاکستانی عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے جنرل اسمبلی سے چوتھی مرتبہ خطاب کرنا ان کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ انہوں نے جنرل اسمبلی کے صدر کو مبارکباد دیتے ہوئے پاکستان کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔
شہباز شریف نے امن کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے سورۃ الانفال کی آیت 61 کا حوالہ دیا اور کہا کہ اگر دوسرا فریق امن کی طرف مائل ہو تو امن کی طرف مائل ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ عالمی حالات میں جنگ کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کی آواز کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال فروری میں خلیج اور مشرق وسطیٰ میں جنگی صورتحال پیدا ہوئی جس کے نتیجے میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، معیشتوں کو نقصان پہنچا اور آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستوں پر دباؤ بڑھا۔ پاکستان نے اس نازک صورتحال میں سفارتی اقدامات آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کو اسلام آباد میں ایک چھت تلے لانے کی کوشش کی، جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں سے سفارت کاری کے لیے گنجائش پیدا ہوئی۔ وزیراعظم نے سعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر، چین اور دیگر دوست ممالک کی امن کوششوں پر بھی اظہار تشکر کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دنیا میں امن دشمن کارروائیوں میں ایک مرتبہ پھر خطرناک اضافہ ہوا ہے۔ میزائلوں، ڈرونز اور گولیوں کے شور میں سفارت کاری کی آواز کو مزید بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کو کھلا رہنا چاہیے اور انہیں تنازعات کا مرکز نہیں بننے دینا چاہیے۔
مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مقدس شہر پر حملے نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو غم و غصے میں مبتلا کیا۔ حرمین شریفین پر حملہ ریڈ لائن ہے اور پاکستان سعودی عرب کے برادر عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔
وزیراعظم نے مکہ معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں دفاع اور امن کے لیے مشترکہ کوشش ہے۔
پاک بھارت کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ بھارت نے پاکستان پر حملے کے لیے ایک جھوٹا جواز پیش کیا جبکہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں بھارتی حملے کا مقابلہ کیا۔
وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت کے باعث جنوبی ایشیا کے لاکھوں عوام کی جانیں بچیں، کیونکہ دونوں ایٹمی ممالک کھلی جنگ کے دہانے تک پہنچ چکے تھے۔
شہباز شریف نے کہا کہ جنوبی ایشیا کو دوبارہ ایسی صورتحال سے بچانے کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دینے پر زور دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں اجتماعی سزا دی جا رہی ہے اور علاقے کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق عالمی برادری کو مسئلہ کشمیر کے دیرپا حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
سندھ طاس معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے اس معاہدے کو یک طرفہ طور پر ختم کرنے کی کوشش کی، تاہم پاکستان کے مؤقف کے مطابق ایسے یک طرفہ اقدام کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر متعلقہ عالمی فورم پر اپنا مؤقف پیش کرتا رہے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری تمام فریقوں کی ذمہ داری ہے اور کسی ایک ملک کے یک طرفہ اقدام سے بین الاقوامی معاہدوں کی حیثیت ختم نہیں ہوتی۔
اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ جنگ اور تصادم کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور
بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے تاکہ دنیا کو مزید تنازعات سے محفوظ بنایا جا سکے۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس سے خطاب https://t.co/xc5Z4XuaZt
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) September 25, 2026

تحریر کے بارے میں اپنی رائے بھیجیں