اسلام آباد: حکومت نے ملک میں رئیل اسٹیٹ کے شعبے کو مضبوط اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے اس میں سرمایہ کاری کے لیے نئی اصلاحات متعارف کرانے کا عندیہ دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف اس اہم شعبے کو منظم اور شفاف بنانا ہے بلکہ اسے ملکی معیشت کے پیداواری شعبوں سے جوڑ کر ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنا بھی ہے۔
وفاقی وزیرِ خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب نے کاروباری برادری، مالیاتی اداروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پالیسی سازی کے عمل میں مسلسل اور بامقصد مشاورت کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ تمام اصلاحات زمینی حقائق کے مطابق ہوں اور معیشت کے وسیع تر اہداف کے ساتھ ہم آہنگ رہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معاشی اصلاحات کی کامیابی کے لیے سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان مضبوط رابطہ انتہائی ضروری ہے۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق یہ بات انہوں نے رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس (REITs) کے فروغ اور سرمایہ منڈی کی ترقی کے لیے قائم فوکس گروپ کے ایک اہم ورچوئل اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔اجلاس میں معروف کاروباری شخصیات عارف حبیب، ندیم ریاض اور علی جمیل سمیت دیگر اہم نمائندگان شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ سرکاری و نجی شعبے کے مختلف اعلیٰ حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو زیادہ منظم، شفاف اور سرمایہ کاری کے لیے پرکشش بنانے کے لیے مربوط اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ اگر مناسب اصلاحات نافذ کی جائیں تو یہ شعبہ ملکی معیشت میں نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔
اجلاس کے دوران REITs کے فروغ سے متعلق ٹیکس نظام میں بہتری، طریقہ کار کی آسانی اور چھوٹے سرمایہ کاروں کی شمولیت بڑھانے جیسے اہم امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ شرکاء نے نشاندہی کی کہ اگرچہ پاکستان میں REIT مارکیٹ نے ابتدائی سطح پر پیش رفت کی ہے، تاہم اس میں مزید وسعت اور بہتری کی گنجائش موجود ہے جسے مؤثر پالیسی اقدامات کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
اس موقع پر قواعد و ضوابط میں وضاحت، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور انتظامی رکاوٹوں کے خاتمے کو بھی کلیدی اہمیت دی گئی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ REITs ایک ایسا جدید مالیاتی ماڈل ہیں جو رئیل اسٹیٹ سرمایہ کاری کو زیادہ شفاف، منظم اور دستاویزی معیشت کی جانب منتقل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس سے نہ صرف سرمایہ کاری کے مواقع بڑھتے ہیں بلکہ تعمیراتی اور ترقیاتی شعبے بھی باضابطہ معیشت کا حصہ بنتے ہیں۔
اجلاس میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے، آگاہی مہمات کے آغاز اور ثانوی مارکیٹ کے مؤثر نظام کے قیام پر بھی زور دیا گیا تاکہ سرمایہ کاری کے مواقع کو پائیدار بنیادوں پر فروغ دیا جا سکے۔ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ پاکستان کے REIT فریم ورک کو بین الاقوامی بہترین طریقوں سے ہم آہنگ کیا جائے، تاہم اسے سادہ، واضح اور قابلِ عمل رکھا جائے تاکہ سرمایہ کاروں کو سہولت میسر آ سکے۔
وزیر خزانہ نے متعلقہ اداروں بشمول سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP)، ٹیکس پالیسی آفس، REIT جاری کنندگان اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو ہدایت کی کہ وہ ٹیکسیشن، ریگولیٹری معاملات اور مارکیٹ ڈیولپمنٹ سے متعلق جامع تجاویز جلد از جلد پیش کریں۔
اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حکومت ایک شفاف، مستحکم اور سرمایہ کار دوست ماحول فراہم کرے گی، جو نہ صرف سرمایہ کاری کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ ملک کی پائیدار معاشی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

تحریر کے بارے میں اپنی رائے بھیجیں