پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے بدھ کے روز میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج انٹری ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) کے شیڈول میں ایک اہم تبدیلی کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد داخلہ کے عمل کو تیز اور مؤثر بنانا ہے۔
نئی پالیسی کے تحت اب ایم ڈی کیٹ ایف ایس سی امتحانات کے ایک ماہ کے اندر منعقد کیا جائے گا۔
وفاقی وزیرِ صحت مصطفی کمال نے اس فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے اسے ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے طلبہ کو اپنی تعلیمی رفتار برقرار رکھنے میں مدد ملے گی اور وہ بغیر کسی طویل وقفے کے اپنی تیاری جاری رکھ سکیں گے۔
پی ایم ڈی سی کے صدر رضوان تاج نے دی ایکسپریس ٹریبیون سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ یہ پالیسی 2026 کے ایف ایس سی امتحانات سے نافذ کی جائے گی۔ ان کے مطابق امتحانات کے درمیان وقفہ کم ہونے سے طلبہ جلد اگلے مرحلے میں داخل ہو سکیں گے اور میڈیکل کالجوں میں داخلہ کا عمل بھی زیادہ منظم ہو جائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس نئے شیڈول کو صوبائی حکام کی منظوری حاصل ہو چکی ہے، جو مقررہ وقت پر امتحانات کے انعقاد کے لیے تیار ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حالیہ ایم ڈی کیٹ بغیر کسی نقل، پرچہ لیک یا بدنظمی کے کامیابی سے مکمل ہوا۔
2025 میں ملک بھر سے 1 لاکھ 40 ہزار 125 امیدواروں نے اس ٹیسٹ کے لیے رجسٹریشن کروائی تھی۔ یہ امتحان سندھ کے 9 شہروں اور 10 مراکز میں منعقد ہوا، جن میں کراچی، حیدرآباد، جامشورو، خیرپور، جیکب آباد، لاڑکانہ اور سکھر شامل ہیں۔
تاہم، کچھ طلبہ نے نئے شیڈول پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایف ایس سی کے امتحانات روایتی تحریری نوعیت کے ہوتے ہیں جبکہ ایم ڈی کیٹ مکمل طور پر ملٹی پل چوائس سوالات پر مبنی ہوتا ہے، جس کے لیے مختلف انداز میں تیاری درکار ہوتی ہے۔
طلبہ کے مطابق چند ہفتوں کا وقفہ دونوں امتحانات کی مؤثر تیاری کے لیے ناکافی ہو سکتا ہے، جس سے ان کی کارکردگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
تعلیمی ماہرین اور طلبہ نے تجویز دی ہے کہ امیدواروں کو نئے نظام کے مطابق ڈھالنے کے لیے رہنمائی فراہم کی جائے۔ بعض نے یہ بھی کہا کہ ایف ایس سی کا پاسنگ معیار 40 فیصد سے کم کر کے 20 سے 30 فیصد کر دیا جائے تاکہ طلبہ ایم ڈی کیٹ کی تیاری پر زیادہ توجہ دے سکیں۔
اس فیصلے نے تعلیمی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔ حامی افراد اسے وقت کی بچت کا ذریعہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے طلبہ پر تعلیمی دباؤ اور ذہنی تناؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
اس نئی پالیسی کے اثرات رواں سال کے ایف ایس سی امتحانات کے دوران واضح ہوں گے، جو مستقبل میں پاکستان میں طبی تعلیم کے نظام پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
.jpg)
تحریر کے بارے میں اپنی رائے بھیجیں