اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ اسلام آباد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی ختم کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر یقین رکھتا ہے، کیونکہ یہ صرف ایران ہی نہیں بلکہ کئی بھائی چارے والے مسلم ممالک میں بھی جانی، مالی اور معاشی نقصان کا باعث بن رہی ہیں۔
وزیر اعظم نے یہ بات X (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں کہی اور اس موقع پر سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ سے ملاقات پر خوشی کا اظہار کیا۔ یہ ملاقات گزشتہ روز نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت مربع اجلاس کے بعد ہوئی، جس میں مشرق وسطیٰ کے موجودہ تنازع پر بات چیت کی گئی۔
شہباز شریف نے اپنی ملاقات کے دوران ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان اور مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبد العاطی سے تفصیلات شیئر کیں۔ انہوں نے فوری طور پر جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا اور پاکستان کے مضبوط عزم کو دہرایا کہ وہ ایران اور امریکہ کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مثبت کردار ادا کرے گا۔ وزیر اعظم نے ترکی اور مصر کی اس معاملے میں قیمتی شراکت کی بھی تعریف کی۔
شہباز شریف نے اپنے پیغام کا اختتام کرتے ہوئے ان ممالک کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے پاکستان کی علاقائی امن اور استحکام کے لیے مخلصانہ کوششوں پر اعتماد ظاہر کیا۔
ایک الگ پیغام میں وزیر اعظم نے کہا، “یہ ہمارے لیے خوشی کی بات تھی کہ ہم نے اس شام سعودی عرب کے وزیر خارجہ، شہزادہ فیصل بن فرحان، کا استقبال کیا۔” انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کو اپنے پیغامات بھیجے اور سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مستحکم یکجہتی کا اعادہ کیا۔ وزیر اعظم نے اسلامی ممالک میں اتحاد کی اہمیت کو اجاگر کیا اور سعودی عرب کے مسلم اُمہ میں قیادت کے کردار کو سراہا۔
انہوں نے مزید کہا، “ہم نے اتفاق کیا کہ خطے میں امن اور استحکام کے مشترکہ مقصد کے لیے قریبی رابطے میں رہیں گے۔”

تحریر کے بارے میں اپنی رائے بھیجیں