بھارت میں جان لیوا نیپاہ وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد خطے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جس کے پیشِ نظر پاکستان سمیت کئی ممالک نے فوری حفاظتی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ پاکستان میں وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اور تمام ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور زمینی سرحدوں پر اسکریننگ کا نظام سخت کر دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق پاکستان آنے والے اور ٹرانزٹ مسافروں کی 100 فیصد اسکریننگ لازمی قرار دی گئی ہے، جبکہ ہر مسافر کی گزشتہ 21 دن کی سفری تاریخ کی تصدیق بھی کی جائے گی۔ نیپاہ وائرس سے متاثرہ یا ہائی رسک علاقوں سے آنے والے افراد پر خصوصی نگرانی کی ہدایت دی گئی ہے، اور تھرمل اسکریننگ و طبی معائنہ مکمل ہونے تک کسی کو بھی ملک میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
خبر ایجنسیوں کے مطابق نیپاہ وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کے خدشے کے باعث تھائی لینڈ، ملائیشیا، ہانگ کانگ، سنگاپور اور نیپال میں بھی سرحدوں اور ایئرپورٹس پر مسافروں کی سخت اسکریننگ کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے نیپاہ وائرس کو نہایت خطرناک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے متاثرہ افراد میں اموات کی شرح 40 سے 70 فیصد تک ہو سکتی ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق نیپاہ وائرس سے بچاؤ کے لیے تاحال کوئی ویکسین دستیاب نہیں، جس کے باعث احتیاطی تدابیر اختیار کرنا انتہائی ضروری ہے۔
دوسری جانب بھارتی حکام نے صورتحال پر وضاحت جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ گزشتہ دسمبر میں بھارتی ریاست مغربی بنگال میں دو ہیلتھ ورکرز میں نیپاہ وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔ بھارتی وزارتِ صحت کے مطابق متاثرہ افراد کے قریبی رابطے میں آنے والے 196 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے، جن کی تمام رپورٹس منفی آئی ہیں۔
بھارتی وزارتِ صحت نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ نیپاہ وائرس کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بعض غلط اور گمراہ کن معلومات پھیلائی جا رہی ہیں، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال قابو میں ہے اور وائرس سے متعلق مسلسل نگرانی کا عمل جاری ہے۔
نیپاہ وائرس کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق نیپاہ وائرس ایک متعدی بیماری ہے جو عموماً پھل کھانے والے چمگادڑوں سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔ یہ وائرس متاثرہ جانوروں، آلودہ خوراک یا متاثرہ شخص کے قریبی رابطے سے بھی پھیل سکتا ہے۔ اس کی علامات میں بخار، سر درد،الٹی، سانس لینے میں دشواری، ذہنی الجھن اور بعض کیسز میں دماغی سوزش شامل ہو سکتی ہے۔
.jpg)
تحریر کے بارے میں اپنی رائے بھیجیں