--> آئیے قرآن سمجھیں ( پارہ 3 ) | Haqaaiq

[پاکستان]_$type=three$h=250$c=6$author=hide$comment=hide$rm=hide$date=hide$snippet=hide$show=home

آئیے قرآن سمجھیں ( پارہ 3 )

شیئر کریں:


تحریر:پروفیسر ڈاکٹر عبد الماجد ندیم
جامعہ پنجاب لاہور           
 
🌹تیسرا پارہ ’’تلك الرُّسُلُ‘‘🌹
🎤 یہ پارہ دو حصوں، سورۃ البقرۃ کی بقیہ آخری چونتیس (34) آیات یعنی آیات 253 تا 286 اور سورۃ آل عمران کی دوسو(200) آیات میں سے پہلی اکانوے (91) آیات پر مشتمل ہے، اس طرح اس پارے میں مجموعی طور پر ایک سو پچیس (125) آیات ہیں ۔
(پہلا حصہ) بقیہ اور آخری حصہ سورۂ بقرہ
(دوسرا حصہ) ابتدائے سورۂ آل عمران
* * *
پہلا حصہ - سورۂ بقرہ کی آخری چونتیس آیات (آیات253 - 286)
اس حصے کو ہم دو نکات کی روشنی میں سمجھ سکتے ہیں:
1. قدرت الہی کے بیان کا تسلسل
2۔ صدقہ ،سود اور دیگر مالی معاملات
* * *
1. قدرت الہی کے بیان کا تسلسل
پچھلے پارے کے اختتام پر جو موضوع شروع ہوا تھا اس پارے کے شروع میں اسی موضوع کا تسلسل ہے کہ موت و حیات اور ہرچیز پر صرف اور صرف اللہ تبارک وتعالی کو ہی قدرت حاصل ہے ، اور اس کا ایک مظہر رسولوں کی تشریف آوری اور وہ معجزات ہیں جو اللہ تبارک وتعالی اپنے رسولوں کے ذریعے سے ظاہر فرماتے ہیں ۔ اللہ تبارک وتعالی کے رسول سب اپنے درجوں میں برابر نہیں ہیں ان میں سے بعض اعلی مرتبت وہ ہستیاں ہیں جنھیں اللہ تعالی نے اپنی ہم کلامی کے شرف سے نوازا ۔مردوں کو دوبارہ زندہ کر کے اٹھانے کی بھی قدرت حقیق طور پر اللہ ہی کو حاصل ہے جب چاہے جس وقت چاہے وہ اپنی قدرت کا اظہار کرتا ہے ،کر سکتا ہے، اسی حوالے سے قرآن مجید کی سب سے فضیلت والی آیت“ آیت الکرسی” بھی ہے جس میں اللہ تبارک وتعالی کی توحید اور قدرت کی مختلف جہتوں کا بیان ہے ، پھر اس بات کو تاریخی حقائق اور تمام انبیاء کی تعلیمات کا محور ہونے کی حیثیت میں سمجھانے کے لیے ابو الأنبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام اور نمرود کے درمیان ہونے والے مکالمے میں بیان کیا ہے کہ جس وقت سیدنا ابراہیم علیہ السلام نمرود کے دربار میں جاکراللہ کی توحید کی تبلیغ کرتے ہیں، تو ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں ببانگ دہل یہ اعلان فرماتے ہیں کہ میرا پروردگا ر زندہ بھی کرتا ہے اور مارتا بھی ہے۔ جواب میں نمرود کہتا ہے کہ میں بھی مارتا ہو ں اور زندہ کرتا ہوں ۔ اس کو ثابت کرنے کے لیے اپنی کم فہمی اور سطحی سوچ کی بنیاد پر اس نے ایک مجرم کو آزاد کر دیا اور اپنی استبدادی سوچ اور ظالمانہ روش کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک بے گناہ کو موت کے گھاٹ اتاردیا ۔ ابراہیم علیہ السلام نے اس کی اس کم فہمی اور متکبّرانہ سوچ کو بھانپ کر فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ سورج کو مشرق سے لے کر آتا ہے، پس تُو اس کو مغرب سے لے کر آ۔یہ بات سن کر نمرود کے لبوں پر چپ کی مہر لگ گئی، اور کچھ کہہ اور کر نہ سکا ۔
اور پھر ایک دوسرے واقعے کا تذکرہ ہے جو روایات کے مطابق حضرت عزیر علیہ السلام کو پیش آیا، اللہ تعالیٰ نے سوسال تک ان کی روح قبض کیے رکھا اور پھر زندہ کر دیا ۔ اور پھر اسی حقیقت کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس سوال کے جواب میں ایک واقعے کی صورت میں واضح کیا ہے جو انھوں نے اطمینان قلب کے لیے عرض کیا تھا ۔
2۔ صدقہ ، سود اور دیگر مالی معاملات
جس طرح جانوں پر مکمل قدرت اللہ کو حاصل ہے جس کا تقاضا ہے کہ انسان کو اللہ کے احکام کے مطابق اپنی جان صرف کرنی چاہیے ، اسی طرح مالی معاملات میں بھی اللہ کے احکام کو بروئے کار لانا چاہیے، کیونکہ ان پر بھی مکمل قدرت اللہ ہی کو حاصل ہے ۔
اس حصے میں صدقہ اور سود کے بارے میں تفصیلی بیان ہے اور یہ واضح فرمایا گیا ہے کہ مال کا کم ہونا یا زیادہ ہونا ظاہری صورت حال سے تعلق نہیں رکھتابلکہ اس کا تعلق اللہ تعالی کے حکم سے ہے اگرچہ بظاہر صدقے سے مال کم ہوتا ہے اور سود سے بڑھتا ہے، مگر اللہ کا اعلان ہے کہ صدقے سے مال بڑھتا ہے اور سود سے گھٹتا ہے ۔
آخر میں قرآن مجید کی سب سے طویل آیت، آیتِ مداینہ“ یعنی لین دین کے متعلق آیت ہے جس میں باہمی لین دین کے حوالے سے ہدایات دی گئی ہیں۔
* * * * * * *
دوسرا حصہ - سورۂ آل عمران کی پہلی اکانوے آیات (1 – 91)
سورة آل عمران اس پارے سے شروع ہو رہی ہے اور اس کی دو سو آیات میں سے پہلی اکانوے آیات اس پارے میں ہیں یہ سورت سورة البقرة سے کافی مناسبت رکھتی ہے کہ اس کی ابتدا بھی قرآن مجید کی حقانیت سے ہوتی ہے ، اللہ تعالی کی قدرت پر دلالت کرنے والے قصوں اور اہل کتاب سے خطاب پر مشتمل ہے۔ البتہ سورۂ بقرہ میں اکثر خطاب یہود سے ہے جبکہ آل عمران میں اکثر روئے سخن نصاری کی طرف ہے۔
اس سورت کی اکانوے آیات جو اس پارے میں آئی ہیں ان کو ہم پانچ نکات کی روشنی میں سمجھ سکتے ہیں :
1-عظمتِ قرآن
2- اللہ تعالی کی قدرت کے چار قصے
3- اہل کتاب سے مناظرہ، مباہلہ اور افہام و تفہیم کا راستہ
4- انبیائے سابقین سے عہد
5۔ تمام انبیا کے بتائے ہوئے طریقے کا ما حصل
* * *
1-عظمتِ قرآن کا بیان اور ہدایت قرآنی سے فیض یاب ہونے والوں کی نشانی
شروع میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن ِمجید کو حق کے ساتھ نازل فرمایا ، جو کہ سابقہ کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اور اس سے قبل اس نے تورات اور انجیل کو نازل فرمایا تھا ۔
پھر اس بات کو بھی واضح فرمایا ہے کہ قرآن مجید میں دو طرح کی آیات ہیں، ایک محکم اور دوسری متشابہ۔ فرمایا کہ محکم آیات کتاب کی اصل ہیں اور متشابہا ت کی تاویل کا علم صرف اللہ کے پاس ہے۔ جن لوگوں کے دلوں میں مرض ہوتا ہے وہ متشابہات کی تاویل کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں اور اہل ایمان کہتے ہیں جو کچھ بھی ہمارے رب نے اتارا ہمارا اس پر کامل ایمان ہے۔
اور یہی چیز ہی اسلام یعنی اللہ کے آگے اپنے آپ کو ہر معاملے میں جھکا دینے کی اصل ہے لہذا بتا دیا گیا کہ اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے اس لیے جو آخرت کی فلاح و بہبود کا خواہشمند ہے اس کو اسلام کا ہی راستہ اختیار کرنا ہو گا ۔
2- اللہ تعالی کی قدرت کے چار قصے
سورة البقرة کا اختتام اللہ کی قدرت کے بیان پر ہوا تو اس سورت کی ابتدا میں عظمت قرآن کے بیان کے بعد اللہ سبحانہ وتعالی کی قدرت کی وضاحت ہوتی ہے کہ وہ رحم مادر میں انسانوں کو جس طرح چاہتا ہے صورت عطا فرما دیتا ہے کہ وہ بغیر رنگ، روشنی اورکینوس کے دھڑکتے ہوئے دل والا انسان بنا دیتا ہے ۔ پھر قدرت کی مزید تفہیم کے لیے چار قصے وارد ہوئے ہیں :
پہلا قصہ – 
جنگ بدر کا ہے جس کا مشاہدہ مخاطبین اوّلین نے خود کیا کہ تین سو تیرہ کی جماعت جس کے پاس نہ کوئی مناسب اسلحہ تھا اور نہ ہی کوئی ضروری ساز و سامان مگر اللہ کی خاطر لڑ رہی تھی اس نے ایک ہزار کفار کے اسلحہ اور سازوسامان سے لیس لشکر کو عبرت ناک شکست دے دی۔
دوسرا قصہ - 
 حضرت بی بی مریم رضی اللہ عنہا کا ہے کہ آپ کی بچپن سے جوانی تک پوری زندگی اللہ کی بندگی میں صرف ہوئی یہاں تک کہ بارگاہ الٰہی سے آپ کے لیے یہ کرامت بھی ظاہر ہوئی کہ آپ کے پاس بے موسم کے پھل آنے لگے ۔حضرت مریم رضی اللہ عنھا کا ہے كو اللہ نے ایسے رزق سے نوازا جو ظاہر کی آنكھ کے لیے ناقابل یقین تھا۔
تیسرا قصہ- 
حضرت زکریا علیہ السلام کو بڑھاپے میں اولاد عطا ہونے کا ہے، جب کہ بیوی بھی بانجھ تھیں۔
ہوا یہ کہ حضرت زکریا جو بعض روایات کے مطابق بی بی مریم کے خالوبھی تھے، ایک دن اس محراب میں داخل ہوئے جہاں سیدہ مریم عبادت میں مشغول رہتی تھیں۔ انھوں نے سیدہ مریم کے پاس بے موسم کے پھل اور ناقابل یقین رزق کی اس عطا کا مشاہدہ کیا تو ان کا یہ یقین کہ اللہ جس کو چاہتا ہےبلا حساب رزق دیتا ہے، عین الیقین میں آ گیا تو آپ نے اپنے بڑھاپے اور اپنی بیوی کے بانجھ پن کے باوجود اللہ تعالی سے دعا مانگی کہ اے میرے پروردگار! مجھے بھی اپنی طرف سے پاک اولاد عطا فرما ، تو آپ کی دعا قبول ہوئی اور اللہ نے آپ کو حضرت یحیي علیہ السلام سے نوازا۔
چوتھا قصہ- 
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بی بی مریم کے ہاں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی معجزاتی ولادت کا ذکر کیا ہے جو بغیر باپ کے پیدا ہوئے، اور آپ کے مختلف محیر العقول معجزات کا بھی ذکر کیا ہے جن میں بچپن میں بولنے اور زندہ آسمان پر اٹھائے جانے کا بھی ذکر ہے۔
3۔اہل کتاب سے مناظرہ ، پھر دعوت مباہلہ اور باہمی افہام و تفہیم کا راستہ
حضرت عیسي علیہ السلام کے انتہائی محیر العقول معجزات کے باعث کچھ لوگ آپ کو اللہ کا بیٹا قرار دینے لگے اور وہ عیسائی کہلائے ان کی غلط سوچ کے ابطال کے لیے ان سے مناظرہ اور پھر مباہلہ کی دعوت یعنی چیلنج کا ذکر ہے اس کے آخر میں ا س نکتے کی طرف دعوت دی گئی ہے جو سب اہل کتاب کو تسلیم ہے ، اور وہ ہے کلمۂ “لا الہ الا اللہ”۔
4۔ انبیائے سابقین سے عہد
آخری حصے میں اس عہد کا ذکر ہے جو اللہ تعالی نے انبیائے سابقین سے لیا تھا کہ جب آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں گے تو تم ان پر ایمان لاؤ گے اور ان کی بات مانو گے، اور ان کی حمایت کرو گے جس کا لازمی تقاضاہے کہ اب ان رسولوں اور انبیا کے نام لیوا خاتم النبیّین صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد اس عہد کو پورا کریں ۔
5۔ تمام انبیا کے بتائے ہوئے طریقے کا ما حصل دین اسلام ہے اور اللہ کے ہاں یہی کامیابی کا رستہ ہے
اور یہ واضح کیا کہ جس کسی نے بھی اس کے علاوہ کوئی رستہ اختیار کیا تو وہ کافر ، نامراد ہے اور کفر پر مرنے والے اگر زمین کی مقدار کے برابر سونا بھی لے کر آئیں، تو اللہ تعالیٰ اس سونے کے بدلے میں انہیں معاف نہیں کریں گے اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا ۔  





تحریر کے بارے میں اپنی رائے بھیجیں

مقبول ترین_$type=three$author=hide$comment=hide$rm=hide$date=hide$snippet=hide$c=9$shide=home

مزید اہم تحریریں_$type=three$author=hide$comment=hide$rm=hide$date=hide$snippet=hide$c=9$shide=home

نام

پاکستان,99,تعلیم,51,ٹیکنالوجی,33,دلچسپ وعجیب,9,دنیا,38,شوبز,6,صحت,21,کاروبار,36,کالم,3,کھیل,23,ویڈیوز,43,
rtl
item
Haqaaiq: آئیے قرآن سمجھیں ( پارہ 3 )
آئیے قرآن سمجھیں ( پارہ 3 )
Let us understand the Quran sorah Albaqaqah Sorah Aal imaran
https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEg5kll42p5PfqbnFiBzT_gSPo9zLYiDllHBGUXKmkzj8ic43JivFEasBO7U-tuzj8mYo9ui2IX_0MrGmRKfRst9OKwa6YzqmmeTZZRPl92G4k0xOAhLyi_m2NJy07eXLNpMfFMrwg7hKJzupiUXVqap7YTAJni_WSW75VQUc7iP3UTsGEGTiNAQBpUXnw/s16000/quran-g429bda506_1920.jpg
https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEg5kll42p5PfqbnFiBzT_gSPo9zLYiDllHBGUXKmkzj8ic43JivFEasBO7U-tuzj8mYo9ui2IX_0MrGmRKfRst9OKwa6YzqmmeTZZRPl92G4k0xOAhLyi_m2NJy07eXLNpMfFMrwg7hKJzupiUXVqap7YTAJni_WSW75VQUc7iP3UTsGEGTiNAQBpUXnw/s72-c/quran-g429bda506_1920.jpg
Haqaaiq
https://www.haqaaiq.com/2023/03/Let-understand-Quran.html
https://www.haqaaiq.com/
https://www.haqaaiq.com/
https://www.haqaaiq.com/2023/03/Let-understand-Quran.html
true
913436328015187053
UTF-8
تمام تحریروں کو لوڈ کیا کوئی تحریر نہیں ملی تمام دیکھیں مزید پڑھیں جواب دیں جواب منسوخ کریں حذف کریں بذریعہ صفحۂ اول صفحات تحریریں تمام دیکھیں آپ کیلئے تجویز کردہ عنوان آرکائیو تلاش کریں تمام تحریریں آپ کی درخواست پر کوئی ملتی جلتی تحریر نہیں ملی واپس صفحۂ اول اتوار پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر ابھی ابھی 1 منٹ پہلے $$1$$ منٹ پہلے 1 گھنٹہ پہلے $$1$$ گھنٹے پہلے کل $$1$$ دن پہلے $$1$$ ہفتے پہلے 5 ہفتے پہلے فالوورز فالو یہ پریمیم مواد مقفل ہے مرحلہ 1: سوشل نیٹ ورک پرشیئر کریں مرحلہ 2: اپنے سوشل نیٹ ورک کے لنک پر کلک کریں تمام کوڈ کو کاپی کریں تمام کوڈ کو منتخب کریں تمام کوڈز کو آپ کے کلپ بورڈ میں کاپی کیا گیا کوڈز / متن کو کاپی نہیں کرسکتے ہیں ، براہ کرم کاپی کرنے کے لئے [CTRL] + [C] (یا سی ایم ڈی + سی میک کے ساتھ دبائیں) متن کی فہرست