![]() |
| فوٹو:بشکریہ ڈان |
اسلام آباد کی جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا لانگ مارچ جاری ہے اور سیاسی صورتحال ایک بار پھر اہم مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں قافلہ خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں سے ہوتا ہوا پشاور کی جانب بڑھ رہا ہے، جبکہ حکومت نے اسلام آباد میں سیکیورٹی انتظامات سخت کر رکھے ہیں۔
تازہ اطلاعات کے مطابق مارچ کا قافلہ 6 اکتوبر کو کوہاٹ سے متنی کی طرف روانہ ہوا، جبکہ 7 اکتوبر کو پشاور کے بدھ بیر علاقے سے قافلے کے آگے بڑھنے کا پروگرام ہے۔ اس کے بعد شرکاء چارسدہ انٹرچینج کے قریب قیام کریں گے اور 8 اکتوبر کو خیبرآباد پہنچنے کا منصوبہ ہے۔
خیبرآباد پہنچنے کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی مارچ کے اگلے مرحلے کے حوالے سے اعلان کریں گے۔ اسلام آباد تک پہنچنے کے حتمی راستے اور اگلی حکمت عملی کے بارے میں ابھی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو اٹک سے آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اسلام آباد میں کسی احتجاج یا اجتماع کی اجازت نہیں دے گی۔
ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر لانگ مارچ اور دھرنا ختم کیا جائے تو حکومت سیاسی معاملات پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ وزیراعظم نے خبردار کیا کہ طویل احتجاج اور دھرنوں سے ملکی معیشت، کاروباری سرگرمیوں اور برآمدات پر اثر پڑ سکتا ہے۔
اسلام آباد میں بھی سیکیورٹی انتظامات سخت کیے گئے ہیں۔ ڈی چوک اور اہم داخلی راستوں پر اضافی سیکیورٹی تعینات ہے، جبکہ فیض آباد سمیت مختلف مقامات پر حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔ پنجاب میں بھی امن و امان کے پیش نظر دفعہ 144 کے نفاذ اور سیکیورٹی اقدامات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
حکومت کی جانب سے پہلے یہ وضاحت بھی کی جا چکی ہے کہ اسلام آباد میں بعض مقامات پر کنٹینرز حفاظتی اقدامات کے طور پر رکھے گئے ہیں، جبکہ وزارت اطلاعات نے شہر کی تمام سڑکیں مکمل طور پر بند ہونے کی اطلاعات کو مسترد کیا تھا۔
پی ٹی آئی نے یہ مارچ سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی اور دیگر سیاسی مطالبات کے لیے شروع کیا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں اتفاق رائے نہ ہونے کے بعد مارچ آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ دونوں جانب سے مذاکرات ناکام ہونے کی مختلف وجوہات بیان کی گئی ہیں۔
اب سب کی نظریں 8 اکتوبر پر ہیں، جب مارچ کا قافلہ خیبرآباد پہنچنے کے بعد اگلے مرحلے کا اعلان کرے گا۔ اس اعلان سے یہ واضح ہونے کی توقع ہے کہ قافلہ اسلام آباد کی جانب کس راستے سے اور کس حکمت عملی کے تحت آگے بڑھے گا۔
صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، اس لیے اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، خیبرپختونخوا اور اہم شاہراہوں سے متعلق تازہ صورتحال آنے والے گھنٹوں میں مزید واضح ہوسکتی ہے۔

تحریر کے بارے میں اپنی رائے بھیجیں