سرد موسم میں صحت کا خیال رکھنے کے لیے روزمرہ کی چند احتیاطیں اپنائیں، ہاتھوں کی صفائی، مناسب نیند اور متوازن غذا کو معمول بنائیں۔
سردیوں میں نزلہ، زکام، گلے کی خراش اور کھانسی جیسی شکایات عام ہو جاتی ہیں۔ اس موسم میں لوگ زیادہ وقت بند کمروں میں گزارتے ہیں، جس سے بعض سانس کے وائرس ایک شخص سے دوسرے شخص تک آسانی سے پھیل سکتے ہیں۔ تاہم، چند احتیاطی تدابیر اپنا کر انفیکشن کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔
یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ سرد موسم بذاتِ خود ہر نزلے یا زکام کی وجہ نہیں ہوتا۔ عام زکام عموماً وائرس سے ہوتا ہے، جبکہ کھانسی اور گلے کی خراش کی دوسری وجوہات بھی ہو سکتی ہیں۔
1۔ ہاتھوں کی صفائی کا خاص خیال رکھیں
نزلہ اور زکام کا سبب بننے والے وائرس آلودہ ہاتھوں اور مختلف سطحوں کے ذریعے بھی پھیل سکتے ہیں۔ اس لیے کھانے سے پہلے، بیت الخلا استعمال کرنے کے بعد، باہر سے گھر آنے پر اور ناک صاف کرنے کے بعد ہاتھ اچھی طرح دھوئیں۔
ہاتھ دھونے کے لیے صابن اور صاف پانی استعمال کریں اور کم از کم 20 سیکنڈ تک ہاتھوں کو اچھی طرح رگڑیں۔ اگر پانی دستیاب نہ ہو تو مناسب الکحل والے ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اپنے ہاتھ بار بار آنکھوں، ناک اور منہ پر لگانے سے بھی گریز کریں۔
2۔ کھانستے اور چھینکتے وقت احتیاط کریں
کھانسی یا چھینک کے دوران منہ اور ناک کو ٹشو یا کہنی سے ڈھانپیں۔ استعمال شدہ ٹشو کو فوراً کوڑے دان میں ڈالیں اور بعد میں ہاتھ صاف کریں۔
اگر آپ کو بخار، نزلہ یا کھانسی ہو تو دوسروں کے قریب رہنے میں احتیاط کریں، خصوصاً بچوں، بزرگوں اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد کے ساتھ۔ بیماری کی حالت میں گھر پر رہنا، جب ممکن ہو، دوسروں تک انفیکشن پہنچنے کے خطرے کو کم کر سکتا ہے۔
3۔ کمرے میں تازہ ہوا کی آمدورفت برقرار رکھیں
سردیوں میں کھڑکیاں اور دروازے اکثر بند رکھے جاتے ہیں، لیکن بند اور بھیڑ والے کمروں میں سانس کے وائرس پھیلنے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔
موسم اور بیرونی حالات اجازت دیں تو کچھ دیر کھڑکی کھولیں یا ہوا کی آمدورفت بہتر بنائیں۔ بھیڑ والی جگہوں میں، خصوصاً جب سانس کی بیماریاں پھیل رہی ہوں، اچھی طرح فِٹ ہونے والا ماسک بھی اضافی تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔
اگر باہر شدید دھند یا آلودگی ہو تو کھڑکی کھولنے کا فیصلہ مقامی فضائی معیار کو مدنظر رکھ کر کریں۔
4۔ مناسب نیند اور متوازن غذا کو معمول بنائیں
جسم کی عمومی صحت کے لیے مناسب نیند اور متوازن غذا اہم ہیں۔ اپنی خوراک میں سبزیاں، پھل، دالیں، انڈے، دودھ یا دیگر مناسب غذائی ذرائع شامل کریں۔
بالغ افراد کو عموماً روزانہ 7 سے 9 گھنٹے نیند کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ بچوں اور نوجوانوں کو عمر کے مطابق زیادہ نیند درکار ہو سکتی ہے۔
وٹامن سی یا دیگر سپلیمنٹس کو نزلے کا یقینی علاج نہ سمجھیں۔ زیادہ مقدار میں سپلیمنٹس لینے سے نقصان بھی ہو سکتا ہے، اس لیے ضرورت کے مطابق ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
5۔ پانی اور گرم مشروبات مناسب مقدار میں استعمال کریں
سردیوں میں پیاس کم محسوس ہو سکتی ہے، لیکن جسم کو پانی کی ضرورت برقرار رہتی ہے۔ دن بھر مناسب مقدار میں پانی پئیں۔ سوپ یا گرم مشروبات گلے کی خراش میں وقتی سکون دے سکتے ہیں۔
کھانسی میں ایک سال سے زیادہ عمر کے بچوں اور بالغ افراد کے لیے تھوڑا سا شہد آرام فراہم کر سکتا ہے۔ تاہم، ایک سال سے کم عمر بچے کو شہد ہرگز نہ دیں، کیونکہ اس سے شیرخوار بچوں میں سنگین بیماری کا خطرہ ہوتا ہے۔
یاد رکھیں کہ گرم مشروبات علامات میں آرام دے سکتے ہیں، لیکن وہ وائرس کو ختم کرنے یا بیماری کو یقینی طور پر روکنے کا متبادل نہیں ہیں۔
6۔ سردی سے بچاؤ کے لیے مناسب لباس پہنیں
موسم کے مطابق گرم لباس پہنیں اور ضرورت کے مطابق سر، ہاتھوں اور پاؤں کو ڈھانپیں۔ بچوں اور بزرگوں کو سرد موسم میں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
گیلے کپڑے جلد تبدیل کریں اور بہت زیادہ سردی میں طویل وقت تک باہر رہنے سے گریز کریں۔ گھر کو گرم رکھتے وقت ہیٹر اور دیگر آلات کو محفوظ طریقے سے استعمال کریں۔ بند کمرے میں ایندھن جلانے والے ایسے آلات نہ چلائیں جن سے کاربن مونو آکسائیڈ جمع ہونے کا خطرہ ہو۔مناسب لباس جسم کو سردی سے بچانے میں مدد دیتا ہے، لیکن یہ نزلہ اور زکام پیدا کرنے والے وائرس سے مکمل تحفظ نہیں دیتا۔
7۔ بیماری کی علامات کو نظرانداز نہ کریں
عام زکام کی علامات میں ناک بہنا، چھینکیں، گلے میں خراش اور ہلکی کھانسی شامل ہو سکتی ہیں۔ بیشتر افراد وقت کے ساتھ بہتر ہو جاتے ہیں، لیکن بعض علامات سنگین بیماری کی نشاندہی بھی کر سکتی ہیں۔
اگر سانس لینے میں دشواری، سینے میں درد، شدید کمزوری، پانی کی کمی یا مسلسل بگڑتی ہوئی علامات ہوں تو فوری طبی مدد حاصل کریں۔ بچوں، بزرگوں، حاملہ خواتین اور دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد کو علامات کی صورت میں جلد طبی مشورہ لینا چاہیے۔
اینٹی بایوٹک ادویات عام زکام جیسے وائرل انفیکشن کا علاج نہیں کرتیں۔ کھانسی یا نزلے کی دوا استعمال کرنے سے پہلے، خصوصاً بچوں کے لیے، ڈاکٹر یا مستند فارماسسٹ سے مشورہ کریں۔
کیا سردیوں میں فلو کی ویکسین بھی ضروری ہے؟
فلو کی ویکسین انفلوئنزا سے بچاؤ اور اس کی سنگین پیچیدگیوں کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ عام زکام کے ہر وائرس سے تحفظ نہیں دیتی، لیکن مناسب افراد کے لیے اہم حفاظتی تدبیر ہے۔
ویکسین کے بارے میں اپنی عمر، صحت اور مقامی سفارشات کے مطابق ڈاکٹر سے رہنمائی لیں۔
نتیجہ
سردیوں میں صحت مند رہنے کے لیے ہاتھ دھونا، کھانستے وقت منہ ڈھانپنا، مناسب نیند لینا، متوازن غذا کھانا اور کمروں میں ہوا کی آمدورفت بہتر رکھنا مفید اقدامات ہیں۔ اگر بیماری کی علامات شدید ہوں یا مسلسل بگڑ رہی ہوں تو گھریلو تدابیر پر اکتفا کرنے کے بجائے طبی مدد حاصل کریں۔
اہم وضاحت: یہ مضمون عمومی صحت کی معلومات فراہم کرتا ہے اور طبی معائنے یا ڈاکٹر کے مشورے کا متبادل نہیں ہے۔

تحریر کے بارے میں اپنی رائے بھیجیں