![]() |
| فوٹو:ناسا |
ناسا نے آرٹیمس II کے عملے کی جانب سے زمین کی پہلی ہائی ریزولوشن تصاویر جاری کر دی ہیں ، جو وہ چاند کے گرد اپنے سفر کے دوران لے رہے ہیں۔
مشن کے کمانڈر ریڈ ویزمین نے یہ "شاندار" تصاویر کھینچی ہیں، ناسا کے مطابق، جب عملے نے آخری انجن برن مکمل کیا، جس نے انہیں ہمارے قریبی سیاروی ہمسایہ، چاند کی جانب لے جانے والی راہ پر ڈال دیا۔
پہلی تصویر جسے Hello, World کہا گیا ہے، میں اٹلانٹک اوشن کے وسیع نیلے سمندر کو دکھایا گیا ہے، جس کے کنارے پر زمین کے ماحول کی ہلکی روشنی اور دونوں قطبین پر سبز اورورا (شفق) نظر آ رہی ہے، جبکہ زمین سورج کو جزوی طور پر ڈھانپ رہی ہے۔
زمین ہمارے لیے الٹی نظر آ رہی ہے، جس میں بائیں جانب مغربی صحارا اور ایبیرین جزیرہ نما اور دائیں جانب جنوبی امریکہ کا مشرقی حصہ واضح ہے۔
ناسا نے تصویر میں نیچے دائیں روشن سیارے کی نشاندہی زہرہ (Venus) کے طور پر کی ہے۔
یہ تصاویر جمعہ کی صبح کے ابتدائی اوقات میں، جب عملے نے کامیابی کے ساتھ ٹرانس-لونا انجم برن مکمل کیا، لی گئی ہیں۔
اس برن کے بعد اوریون اسپیس کرافٹ زمین کے مدار سے باہر نکل گیا، اور چاروں خلا باز 200,000 میل سے زیادہ فاصلے پر چاند کی جانب سفر کے لیے روانہ ہوئے۔ آرٹیمس II اب ایک لوپنگ راستے پر ہے جو عملے کو چاند کے پچھلے حصے کے گرد لے جائے گا اور دوبارہ زمین تک واپس لائے گا۔ یہ پہلا موقع ہے جب 1972 کے بعد انسان زمین کے مدار سے باہر سفر کر رہے ہیں۔
عملے کو متوقع طور پر 6 اپریل کو چاند کے پچھلے حصے کے گرد سے گزرنا ہے اور 10 اپریل کو زمین واپس پہنچنا ہے۔
برن مکمل ہونے کے بعد، مشن اسپیشلسٹ جرمی ہینسن نے مشن کنٹرول ہاؤسٹن کو بتایا کہ عملہ "کھڑکیوں کے پاس چپک گیا" اور تصاویر لے رہا تھا۔
انہوں نے کہا، "ہم زمین کے تاریک حصے کا خوبصورت منظر دیکھ رہے ہیں، جو چاند کی روشنی میں روشن ہے۔"
کمانڈر نے ابتدائی طور پر کہا کہ اسپیس کرافٹ سے زمین کی تصاویر لینا مشکل ہے کیونکہ اتنے فاصلے پر فوٹو لینے کے لیے ایکسپوژر سیٹنگ ایڈجسٹ کرنا پیچیدہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا، "یہ ایسے ہے جیسے آپ اپنے گھر کےصحن سے چاند کی تصویر لینے کی کوشش کر رہے ہوں۔ یہی احساس ابھی ہو رہا ہے۔"

تحریر کے بارے میں اپنی رائے بھیجیں