![]() |
فوٹو:SpaceX |
امریکی خلائی کمپنی اسپیس ایکس نے خلائی تحقیق کی دنیا میں اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے اپنے بڑے خلائی جہاز اسٹارشپ کو پہلی مرتبہ کامیابی کے ساتھ زمین کے مدار تک پہنچا دیا۔
28 ستمبر 2026 کو ٹیکساس میں واقع اسپیس ایکس کے لانچ مرکز سے اسٹارشپ کی 14ویں آزمائشی پرواز کی گئی۔ اس مشن کا مقصد پہلی مرتبہ اسٹارشپ کو مداری پرواز کے لیے استعمال کرنا اور سیٹلائٹس کو خلا میں پہنچانا تھا۔
رپورٹس کے مطابق بغیر انسانوں کے اس مشن کے دوران اسٹارشپ نے زمین کے مدار تک پہنچنے کے بعد 26 اسٹارلنک سیٹلائٹس بھی خلا میں پہنچائے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اسٹارشپ کے ذریعے عملی سیٹلائٹس کو مدار میں تعینات کیا گیا ہے، جسے اسپیس ایکس کے مستقبل کے خلائی منصوبوں کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔
پرواز کے دوران اسٹارشپ کے انجنوں میں سے ایک میں خرابی بھی پیدا ہوئی، تاہم خلائی جہاز نے اپنا سفر جاری رکھا اور مطلوبہ مداری رفتار حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ اس کے بعد 26 اسٹارلنک سیٹلائٹس کو خلا میں چھوڑ دیا گیا۔
اسپیس ایکس کے منصوبے کے مطابق اسٹارشپ کو کئی گھنٹوں تک زمین کے گرد چکر لگانے کے بعد بحرالکاہل میں واپس اترنا تھا، تاہم انجن سے متعلق مسئلے کے باعث مشن کو مقررہ وقت سے پہلے ختم کردیا گیا۔ خلائی جہاز تقریباً تین گھنٹے بعد بحرالکاہل میں واپس آ گیا۔
اسٹارشپ پروگرام کو اسپیس ایکس کے مستقبل کے بڑے خلائی منصوبوں میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ کمپنی اس خلائی جہاز کو دوبارہ قابل استعمال بنانے پر کام کررہی ہے تاکہ مستقبل میں بڑے پیمانے پر سیٹلائٹس، سامان اور دیگر آلات کو خلا میں پہنچایا جاسکے۔
اسٹارشپ کو مستقبل میں چاند تک انسانی مشنز اور دیگر گہرے خلائی منصوبوں کے لیے بھی استعمال کرنے کا منصوبہ ہے۔ امریکی خلائی ادارے ناسا کے چاند پر انسانوں کی واپسی کے پروگرام میں بھی اسٹارشپ کو اہم کردار دیا گیا ہے۔
اس کامیاب مداری پرواز کے بعد اسپیس ایکس کے اسٹارشپ پروگرام نے ایک اہم مرحلہ عبور کرلیا ہے۔ ماہرین کے مطابق مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کی مزید آزمائشی پروازیں خلائی سفر کو زیادہ قابلِ رسائی اور بڑے پیمانے پر خلائی مشنز کے لیے اہم ثابت ہوسکتی ہیں۔
Splashdown confirmed. Congratulations to the entire SpaceX team on the first orbital flight of Starship! pic.twitter.com/urjmiwnvNl
— SpaceX (@SpaceX) September 28, 2026

تحریر کے بارے میں اپنی رائے بھیجیں